خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 312
خطبات مسرور جلد 19 312 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محہ 28 مئی 2021ء عمل کرتا ہے، عجب، ایک عمل کر کے کوئی نیکی کر لی تو پھر دل میں بڑا خوش ہوتا ہے کہ میں نے بڑی نیکی کر لی۔اور قسم قسم کی بدکاریاں جن کو بعض دفعہ انسان محسوس بھی نہیں کرتا اور گناہ ہیں جو اس سے صادر ہوتے ہیں۔اس سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، عجب، ریاء، تکبر حقوق انسان کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔وہ عمل صالح ہے۔یہ نہیں کہ عمل نہیں کیا بلکہ فرمایا ان کا خیال بھی تمہارے دل میں نہ آئے تب وہ حقیقی مومن بنو گے اور عمل صالح کرنے والے کہلاؤگے۔فرمایا جیسے آخرت میں عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔فرمایا کہ اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچارہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک کہ تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 274-275) پس ایمان کے ساتھ عمل صالح انتہائی ضروری شرط ہے۔پھر فرمایا کہ عمل صالح ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہو سکتا۔یہ نہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ عمل صالح ہے۔اصل میں اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔جیسے غذا طیب اس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کچھی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنیٰ درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزو بدن ہو جانے والی ہو جو جسم کا حصہ بن جائے۔وہ غذ اطیب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو۔جو اللہ نے حکم فرمایا ہے اس کے مطابق عمل ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور کر کے دکھایا اور فرمایا اس کے مطابق ہو اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو۔کوئی سستی نہیں ہونی چاہیے۔اس عمل کو بجالانے میں نہ عجیب ہو نہ ریا ہو نہ وہ اپنی تجویز سے ہو جب ایسا عمل ہو تو وہ عمل صالح کہلاتا ہے۔خود اپنی تجویزیں نہ بناتے رہو۔عمل صالح کے لیے خود تشریحیں نہ کرتے رہو۔خود یہ نہ کہتے رہو کہ اس سے یہ منشا ہے اور یہ منشا ہے بلکہ حرف حرفا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرو تو عمل صالح ہو گا اور فرمایا کہ یہ کبریت احمر ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 425-426) یہ بہت بڑی اور اہم چیز ہے۔اگر اس حالت کو حاصل کر لیا تو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے فیض اٹھانے والے بن گئے۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے عہد کو بھی پورا کرنے والے ہیں نہ کہ وہ جو جب اپنے مفاد سامنے آئیں تو عمل صالح کی خود تشریح کرنے لگ جائیں۔معروف فیصلہ کی خود تفسیر کرنے لگ جائیں۔ان کی انا انہیں اپنے قبضہ میں لے لے۔ایسے لوگ جو ہیں انہیں ان کا خلافت سے جڑنے کا اعلان کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔بے شک وہ کہتے رہیں ہم خلافت سے جڑے ہوئے ہیں۔جو خالص ہو کر خلافت کے مطیع اور فرمانبردار ہوں گے یہی لوگ حقیقی رنگ میں خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والے ہیں۔خلافت کی حفاظت کرنے والے ہیں اور خلافت ان کی حفاظت کرنے والی ہے۔خلیفہ وقت کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔ان کی تکلیفیں خلیفہ وقت کو ان کے لیے دعائیں کرنے کی طرف متوجہ کرنے والی ہوں گی۔یہ اعمال صالحہ بجالانے والے ہی ہیں