خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 313
خطبات مسرور جلد 19 313 مه فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021ء جن کا خلافت سے رشتہ اور خلافت کا ان سے رشتہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے۔پس یہ وہ حقیقی خلافت ہے جس میں جماعت اور خلیفہ وقت کا تعلق خد اتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہے اور یہی وہ خلافت ہے جو تمکنت اور امن کا باعث ہے۔یہی وہ افراد اور خلیفہ وقت کا تعلق ہے جو دونوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بناتا ہے۔دوسرے مسلمان خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیاوی حیلوں سے، دنیاوی تدبیروں سے۔اور یہ حیلے اور تدبیریں انہیں کبھی فائدہ نہیں دے سکتیں اور نہ اس طرح خلافت قائم ہو سکتی ہے جتنا چاہے یہ کوشش کر لیں۔اب خلافت اسی طرح جاری رہنی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے۔پس جہاں اس بات سے ہمارے اندر شکر گزاری کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے وہاں ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اپنے اعمال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق ہیں ؟ کیا ہمارے حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی کے معیار اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق ہیں؟ پس ہر احمدی کا ہر لمحہ جہاں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں گزرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے وہاں اپنے جائزے لیتے ہوئے بھی گزرنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کر رہے ہیں ؟ اور جب اس سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور پھر اپنے عملوں کو بھی اس کے مطابق کریں گے اور خلافت کے قائم رہنے کے لیے دعائیں بھی کر رہے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث بھی بنتے چلے جائیں گے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی کہ خلافت کا نظام جاری رہے گا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو خوشخبریاں دی ہیں وہ ضرور پوری ہوں گی اگر ہم ان شرائط کو پورا کرنے والے ہیں۔چنانچہ رسالہ الوصیت میں آپ نے خلافت کے نظام کے بارے میں بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتارہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَا غَلِبَنَ آنَا وَرُسُلي (المجادلہ:22) خدا نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے نبی غالب رہیں گے۔منہ " اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کر تا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو جنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔" (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304) ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال نے ہر احمدی کو ہلا کر رکھ دیا وہاں