خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 311
311 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021 ء خطبات مسرور جلد 19 امن میں آنے کا وعدہ کیا ہے وہاں یہ وعدہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ مضبوط ایمان والے ہو، نیک اعمال بجالانے والے بنو ، عبادت کا حق ادا کرنے والے ہو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے نہ ہو، کسی بھی قسم کا شرک کا پہلو تمہارے اندر نہ ہو اور ان چیزوں کے حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز بہت ضروری ہے۔نماز جو اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ بتایا ہے، ان نمازوں کی ادائیگی کرنے والے بنو۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت ضروری ہے۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بنو اور رسول کی اطاعت انتہائی ضروری ہے۔ان کے ہر حکم کو ماننے والے بنو۔پس یہ باتیں جب ہم یا درکھیں گے اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے، اپنا عہد جو ہم نے کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اس پر حقیقی روح کے ساتھ عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر ہی ہم اللہ تعالیٰ کے ان انعاموں سے حصہ لینے والے ہوں گے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور تبھی ہم خلافت کے انعام سے حقیقی فیض پانے والے ہوں گے۔پس یہ آیت مومنوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے فکر کا مقام بھی ہے کیونکہ جو شرائط ہیں اگر اس پر پورا نہیں اتر رہے تو پھر اس انعام سے حقیقی طور پر فیض نہیں پاسکتے۔اگر نماز، زکوۃ، حقوق اللہ کی ادائیگی نہیں، حقوق العباد کی ادائیگی نہیں تو پھر جیسا کہ ذکر ہوا اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کو جذب کرنے والے نہیں بن سکتے۔پس صرف اپنی تاریخ سے واقفیت حاصل کر لینا اور یوم خلافت منالینا کافی نہیں ہے جب تک ہم حقیقی عبد نہیں بن جاتے۔پس جب تک ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے نہیں بن جاتے، بندوں کے حق ادا کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے نہیں بن جاتے ، اس وقت تک ہمارا یہ یوم خلافت منالینا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہماری ایمانی حالت کیا ہے ؟ کیا ہم میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے ؟ کیا ہم تقوی کی باریک راہوں پر چلنے والے ہیں ؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ سے ہر چیز سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں ؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کامل فرمانبر داری کرنے والے ہیں ؟ اور پھر ساتھ ہی ہماری نظر اپنے عمل کی طرف پھرنے والی ہونی چاہیے کہ کیا ہمارا ہر عمل اسلام کی حقیقی تعلیم کے مطابق ہے ؟ ہمارے عمل کہیں دکھاوے کے عمل تو نہیں؟ ہماری نمازیں کہیں دکھاوے کی نمازیں تو نہیں ؟ ہمارا مال خرچ کرنا، زکوۃ دینا کہیں دکھاوا تو نہیں؟ ہمارے روزے کہیں دکھاوے کے روزے تو نہیں ؟ ہمارے حج صرف حاجی کہلانے کے لیے تو نہیں؟ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کامل فرمانبر داری تو تب ہو گی، دلی سکون اور امن تو تب ملے گا جب ہمارا ہر عمل صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے ہو گا اور تبھی وہ معاشرہ خلافت کے زیر سایہ قائم ہو گا جب ہمارا ہر عمل حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے والا ہو گا۔پس صرف زبانی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا ہو گا کہ وہ ایمان لانے والے اس سے فیض اٹھائیں گے جن کے عمل صالح ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔عمل صالح اسے کہتے ہیں کہ جب ایک ذرہ بھی فساد نہ ہو۔یاد رکھو انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔وہ کیا ہیں ؟ وہ کون سے چور ہیں ؟ وہ یہ ہیں۔ریا کاری یعنی جب انسان دکھاوے کے لیے ایک