خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد 19 308 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء سیلابی پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔بڑے خدمت کرنے والے خادم تھے۔انہوں نے صدر صاحب کو کہا کہ آپ کو کسی کام کی بھی ضرورت ہو تو مجھے جب بھی حکم کریں گے میں حاضر ہوں گا۔ہمیشہ ہر وقت خدمت کے لیے حاضر رہنے والے تھے اور ہر ایک کو کہا ہوا تھا کہ میرے گھر کے دروازے کھلے ہوئے ہیں جب بھی ضرورت ہو مدد کی ، آجاؤ۔ہر ایک کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے والے تھے۔نوجوان تھے ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔بہر حال ان کی وفات پر حکومت نے والدین کو پاکستان سے آنے کے لیے ویزا بھی دیا اور حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں ان کی تدفین ہوئی۔اگلا ذکر میاں طاہر احمد صاحب ابن میاں قربان حسین صاحب کا ہے جو وکالت مال ثالث ربوہ کے سابق کار کن تھے اور اور میں احمد صاحب کے والد تھے جو ہمارے اسلام آباد میں یہاں کے پراجیکٹ کے انجنیئر ہیں۔67 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔مقامی جماعت میں سیکر ٹری تربیت تھے۔نائب صدر اور زعیم انصار اللہ کے طور پر بھی خدمت بجالاتے رہے۔تہجد گزار اور نوافل کی ادائیگی کرنے والے، قرآن مجید کی با قاعدہ تلاوت کرنے والے تھے۔موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔اگلا ذ کر رفیق آفتاب صاحب (یوکے) کا ہے جو فاروق آفتاب صاحب کے والد تھے۔ان کی بھی گذشتہ مہینہ اپریل میں تریسٹھ سال کی عمر میں وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔فاروق صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد بہت خوبیوں کے مالک تھے۔عاجز، شریف النفس، ہر ایک کے ساتھ میل ملاپ رکھنے والے، خوش مزاج اور قابل احترام خوش مزاج تھے۔لوگوں کا احترام کرنے والے، مہمان نواز اور بہت سارے لوگوں نے ہمیں فون کر کے یہی بتایا ہے اور ان خوبیوں کی گواہی دی ہے۔بہت مخلص اور فدائی تھے۔بچوں کو بھی خلافت کے قریب رہنے کی طرف ہمیشہ توجہ دلائی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بچے جماعت کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔اگلا ذ کر محترمہ زرینہ اختر صاحبہ اہلیہ مرزا نصیر احمد صاحب چٹھی مسیح جامعہ احمدیہ یو کے کے استاد کا ہے جو گذشتہ مہینہ وفات پا گئیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔یہ بھی صحابہ کی اولاد میں سے تھیں اور بڑی صابر شاکر، اپنے والدین اور ساس اور سسر سب کی خدمت کا انہوں نے حق ادا کیا۔واقف زندگی خاوند کے ساتھ وفا اور قناعت سے گزارہ کیا۔گھانا میں رہیں تو بڑے بڑے معاشی حالات کے باوجود بڑے صبر اور شکر سے انہوں نے بچوں کے ساتھ گزارہ کیا۔کبھی منہ پر شکوہ نہیں لائیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ان کے ایک بیٹے مرزا تو قیر احمد واقف زندگی ہیں۔ایم ٹی اے میں کام کر رہے ہیں۔اگلا جنازہ حافظ محمد اکرم صاحب کا ہے جو اسی مہینے طاہر ہارٹ میں اتنی سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ذریعہ سے آئی تھی اور اس کے بعد ان کے دادا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تحریری بیعت کی تھی۔دستی بیعت تو نہیں ہوئی لیکن تحریری بیعت کی تھی۔ان کے ایک نواسے عبد الخبیر رضوان یہاں دفتر پی ایس یو کے میں خدمت بجالا رہے ہیں۔انہوں نے بھی جماعت کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا اور تصدیق کے لیے جب محمد احمد صاحب مظہر جو