خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد 19 307 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021 ء اس کے بعد یہ نصیر ٹیچنگ ہاسپٹل پشاور میں اسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرتے رہے اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ شعبہ سائیکالوجی بھی رہے۔بتیس سال کی عمر میں ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے سرحد اور ضلع پشاور اور پشاور جماعت کا امیر مقرر فرمایا تھا۔1985ء میں ان کو وقف جدید کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں تعینات کر دیا۔تاحیات اسی پوزیشن میں رہے ، وقف جدید کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے ممبر رہے۔اسی طرح فضل عمر فاؤنڈیشن اور طاہر فاؤنڈیشن اور سٹینڈنگ شوری کے بھی ممبر تھے۔ان کے چھوٹے بھائی کرنل ایوب صاحب ہیں جن کا میں نے ذکر کیا انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی۔اور شمس الدین خان صاحب امیر صوبہ سرحد کی صاحبزادی سے ان کی شادی ہوئی تھی۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔بیٹا جو ہے وقف نو میں ہے اور آج کل ہیومینٹی فرسٹ کے زیر انتظام تنزانیہ میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔یہ لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد علی خان صاحب سچائی، دیانتداری، بے نفسی اور کھرے پن میں اپنا ایک خاص انفرادی مقام رکھتے تھے۔کبھی بھی دولت، اخراجات، دنیاوی اموال یا کسی چیز کا ذکر نہ کرتے۔ان کے ہر بچے نے یہی بات لکھی ہے۔اور ہمیشہ نہایت ہی مطمئن اور خوش زندگی گزاری۔انہوں نے پشاور کے ہر قسم کے نہایت مشکل حالات میں نہایت پیار اور خد اتعالیٰ کی مد دو نصرت پر بھروسا کرتے ہوئے پشاور جماعت کی قیادت کی۔پشاور کے لوگ ان کی وفات پر بہت دکھی ہیں۔خلافت سے بے انتہا تعلق تھا اور ان کی اطاعت بھی مثالی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی محبت کا تعلق تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ کی توحید کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہنے والے بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔اگلا ذ کر مکرم محمد رفیع خان شہزادہ صاحب ربوہ کا ہے جو 30 مارچ کو وفات پاگئے تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کی عمر بیاسی سال تھی۔مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت غلام رسول صاحب افغان اور عائشہ پٹھانی صاحبہ کے نواسے اور حضرت عبد الستار خان صاحب المعروف بزرگ صاحب کے پڑنو اسے تھے۔عبادت گزار اور جوانی سے ہی تہجد گزار تھے۔دین کی غیرت رکھنے والے تھے اور بڑا جوش رکھتے تھے۔بڑی پاکیزہ شخصیت کے مالک تھے۔آخری بیماری میں ہسپتال میں سانس کی تکلیف کے باوجود قرآن شریف اونچی آواز میں پڑھتے رہتے تھے۔یہ ابو ظہبی میں ایئر فورس میں جب بھرتی ہو گئے تو کچھ عرصہ بعد پھر ابو ظہبی چلے گئے۔وہاں ایئر فورس کی اسمبلی میں کسی مولوی نے کہا کہ قادیانی واجب القتل ہیں تو انہوں نے بڑی جرآت سے کھڑے ہو کر کہا کہ میں احمدی ہوں مجھے قتل کرو لیکن بہر حال پھر وہاں سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور پاکستان آگئے۔یہاں آ کے اپنا میڈیکل سٹور کھولا اور اس دوران میں دار الرحمت شرقی (راجیکی) کے صدر محلہ بھی رہے۔اسی طرح ایم ٹی اے کے پروگرام پشتو مذاکرہ کی کم و بیش پچاس قسطوں میں شرکت کی۔محلے کے ہر شخص کے ساتھ ان کا نہایت شفقت بھرا اور پدرانہ سلوک تھا۔لوگوں کی خاموش مالی مدد کیا کرتے تھے۔موصی تھے۔اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔اگلا ذکر ایاز یونس صاحب آسٹریلیا کا ہے۔ان کی چوبیس مارچ کو آسٹریلیا کی اسٹیٹ نیو ساؤتھ ویلز میں