خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 306 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 306

خطبات مسرور جلد 19 306 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء شدہ مانتا ہوں۔اس پر اس احمدی طالبعلم کو خیال ہوا کہ پھر ان کو تبلیغ کرنی چاہیے۔بہر حال پھر مشن ہاؤس لے گئے وہاں انہوں نے جماعت کا تعارف کروایا۔وہاں بشارت بشیر سندھی صاحب مربی تھے اور ان کو پتلون قمیص میں دیکھا تو متاثر ہوئے کہ مولوی بھی ہیں اور بڑے ماڈرن مولوی ہیں۔بہر حال بشارت بشیر صاحب نے ان کو دعوۃ الامیر پڑھنے کے لیے دی اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی دن پڑھی تو ختم کرتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ احمدیت کچی ہے۔1973ء میں انہوں نے بیعت کی اور 1974ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کی بیعت منظور فرمائی۔1974ء میں جب وہ احمد کی ہو گئے تو اس میں فسادات بھی شروع ہو گئے اور مجمع کی صورت میں اپنے کالج سے لڑکوں نے ان کو پکڑ کے کہا کہ احمدیت سے انکار کرو۔( پتہ لگ گیا کہ احمدی ہے) تمہیں شہید کر دیں گے یا قتل کر دیں گے۔بہر حال کالج کی انتظامیہ کچھ نہیں کر سکی۔اس وقت یونیورسٹی کے چانسلر باچا خان کے بیٹے علی خان تھے۔وہ وہاں آئے اور ان کو ان لوگوں سے چھڑوا کر اپنے ساتھ اپنی سواری میں لے گئے اور شہر سے باہر جاکے ان کو چھوڑ دیا۔یہ کہتے ہیں وہاں سے میں پیدل، ننگے پاؤں اپنے گاؤں پہنچا اور باپ نے کہا کہ تم اپنے آپ کو بھی تکلیف میں ڈال رہے ہو اور ہمیں بھی بدنام کر رہے ہو۔کیوں نہیں احمدیت چھوڑ دیتے۔انہوں نے کہا میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔بہر حال کہتے ہیں میر اوالد صاحب سے بھی مباحثہ جاری رہا اور حالات کی خرابی کی وجہ سے تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکا۔بڑے برے حالات تھے لیکن احمدیت پہ قائم رہا۔ایک دن ان کے والد صاحب نے کہا کہ دیکھو اس مسئلہ کو ختم کرو۔چھوڑو احمدیت۔تو انہوں نے کہا کہ اس کو ختم کرنے کا میرا ایک ہی حل ہے کہ جب آپ میرا کھانا بھجواتے ہیں تو اس میں زہر ملا دیں تاکہ میں مر جاؤں اور آپ کا مسئلہ حل ہو جائے۔والد کو انہوں نے کہا کیونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو نہیں چھوڑ سکتا۔اور اس کے بعد آپ کے والد صاحب نے پھر کبھی آپ کو نہیں کہا کہ احمدیت چھوڑ دو۔ان کے والد صاحب کی وفات ہوئی ہے تو آپ ان کی وفات پر گئے مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔لوگوں نے کہا کہ قبائلی روایات کے بڑا خلاف ہے اور بڑی نفرت کا اظہار کیا۔کیسا بیٹا ہے باپ کا جنازہ نہیں پڑھا تو انہوں نے کہا کہ میرے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیادہ اہمیت رکھتے ہیں باقی سب بعد میں۔اسی طرح ان کی والدہ نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔انہوں نے کہا تم میرے بیٹے نہیں ہو اور ہر چیز سے، جائیداد وغیرہ سے ان کو عاق کر دیا تو اس کے بعد پھر اپنے گاؤں نہیں گئے لیکن والدہ کی مدد کرتے رہے۔اور اپنے تایا کے گھر جایا کرتے تھے۔وہاں سے والدہ کا خیال رکھتے رہے۔ان کی مالی امداد بھی کرتے رہے۔وہ خود بھی جب فوت ہوئی ہیں تو ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھا۔اسی طرح انہوں نے اپنے ایک چھوٹے بھائی کو بھی احمدی کر لیا تھا۔انہوں نے بھی جنازہ نہیں پڑھا۔اور اس پر پھر لوگوں نے اعتراض کیا کہ کیسے بیٹے ہیں۔پر انہوں نے یہی کہا کہ جہاں تک جماعت کی غیرت کا سوال ہے یہ لوگ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے رہے اس لیے ہم جنازہ نہیں پڑھ سکتے۔انہوں نے غیر معمولی غیرت دکھائی۔ستائیس سال انہوں نے فوج میں خدمت کی۔لیفٹینٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ڈ ہوئے۔ڈاکٹر تھے۔ریٹائر منٹ پر ان کو صدارتی تمغہ امتیاز ملٹری بھی ملا۔