خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد 19 305 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء نے اس کی اصلاح اور اس کی درستگی اور صحت کے لیے کام کیا۔خط منظور میں سادہ قرآن کریم تو شائع ہو گیا ہے۔اسی طرح اب قرآن مجید انگریزی ترجمہ حضرت مولوی شیر علی صاحب والا جو تھا اس کو تیار کرنے میں یہ مصروف تھے۔وہ بھی تقریباً تیار ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ جلد ہی شائع ہو جائے گا۔اس میں ان کا بہت کام ہے۔اسی طرح ترجمہ حضرت میر اسحق صاحب والا جو ہے اس کے بھی کچھ سیپارے انہوں نے کر لیے تھے۔قرآن کریم کے کام میں، اشاعت میں بھی بڑی محنت سے انہوں نے کام کیا ہے خاص طور پر خط منظور کی اشاعت میں۔ان کے ناظر صاحب اشاعت لکھتے ہیں کہ خاکسار کے استاد بھی تھے اور ماموں خسر بھی تھے اس کے باوجود نائب ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ اطاعت کا جذبہ اور بڑی عاجزی اور انکساری سے بات کرتے تھے۔کبھی یہ نہیں کہا کہ میں تمہارا استاد ہوں یا رشتہ میں تمہارے سے بڑا ہوں۔ان کے طلبہ میں سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے کلاس میں بتایا کہ انہوں نے دوران طالب علمی کبھی جامعہ سے رخصت نہیں لی اور اس کے بعد تدریس کے دوران بھی جب جامعہ میں پڑھاتے تھے کبھی رخصت نہیں لی۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسر ا جو ذکر ہے وہ ہے سید بشیر الدین احمد صاحب مبلغ سلسلہ۔یہ بھی قادیان کے ہیں۔تر اسی سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔سید سعید الدین صاحب صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے۔نہایت عبادت گزار، تہجد گزار، دعا گو، سادہ مزاج آدمی تھے۔مرحوم موصی بھی تھے۔پسماندگان میں تین بیٹے چھوڑے ہیں اور تینوں بیٹے انجمن کے دفاتر میں کام کر رہے ہیں۔اگلا ذکر بشارت احمد صاحب حیدر واقف زندگی قادیان ابن فیض احمد صاحب شحنہ کا ہے۔ان کی گذشتہ دنوں اکہتر سال کی عمر میں وفات ہو گئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔یہ مرحوم حضرت عبد الکریم صاحب کے پوتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشان سگ گزیدہ تھے۔جو حضرت عبد الکریم صاحب کا ہلکائے کتنے کے کاٹنے کا معاملہ تھا یہ ان کے پوتے تھے اور یہ زندگی وقف کر کے کرناٹک سے قادیان آئے اور پھر مدرسہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف دفاتر میں کام کیا اور پھر انچارج شعبہ رشتہ ناطہ مقرر ہوئے۔وہاں خدمات سر انجام دیں اور چھیالیس سال تک سلسلہ کی خدمت کی۔وسائل کم ہونے کے باوجود بڑی سفید پوشی سے اور سادگی سے گزارا کیا۔بڑی سادہ زندگی تھی۔بڑے با اخلاق اور بامروت انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں ہیں جن کو انہوں نے تعلیم بھی اچھی دلوائی اور پھر واقفین زندگی سے ان سب کی شادیاں کیں۔اگلا ذکر مکرم محترم ڈاکٹر محمد علی خان صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع پشاور کا ہے۔67 سال کی عمر میں گذشتہ ماہ ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔انہوں نے خود بیعت کی تھی۔جب یہ وہاں ایف ایس سی کے طالبعلم تھے۔کہتے ہیں کہ میں اپنے تایا کی دکان تھی وہاں بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص آیا جو بڑا معزز تھا اور جب چلا گیا تو تایا نے ان کو کہا تم جانتے ہو یہ قادیانی تھا اور قادیانی بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔کہتے ہیں یہ میر ا جماعت سے پہلا تعارف تھا۔پھر میڈیکل کالج میں ایک ان کے کلاس فیلو تھے جو احمدی تھے۔انہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں ان سے پوچھا کہ کیا نظریہ ہے ؟ زندہ مانتے ہو یا فوت شدہ؟ تو ڈاکٹر محمد علی صاحب نے کہا کہ میں تو ان کو فوت