خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد 19 304 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء بھی ہوں۔اسی طرح احمدیوں کے لیے جو خاص طور پر پاکستان میں ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں ان کے لیے بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنی حفاظت میں رکھے۔جنازوں میں سے آج جن کا پہلا ذکر ہے وہ قریشی محمد فضل اللہ صاحب نائب ناظر اشاعت قادیان تھے جو 27 / اپریل کو وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کی والدہ کے دادا اور والد کے نانا حضرت منشی مہر دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے جن کے ذریعہ سے ان کے خاندان میں احمدیت آئی اور ان کا نام منارة المسیح کے چندہ دہنگان میں بھی درج ہے۔جامعہ سے فراغت کے بعد قریشی صاحب نے تئیس سال پانچ ماہ جامعہ احمدیہ میں تدریس کا کام کیا اور قرآن مجید، اردو، کلام، صرف و نحو اور ادب عربی وغیرہ کے مضامین پڑھائے اور کل عرصہ خدمت ان کا سینتیں سال سات ماہ بنتا ہے۔اللہ کے فضل سے مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کے بارے میں ناظر اشاعت مخدوم صاحب لکھتے ہیں کہ جامعہ میں جب تھے بہت شفیق استاد تھے۔طلبہ کے ساتھ بہت محبت اور دوستی کا سلوک تھا اور دوستانہ تھا اور نہایت ایمانداری سے اور وقف کی روح کے ساتھ کام کیا۔ہمیشہ وقت کی پابندی کی۔طلبہ سے بھی وقت کی پابندی کرواتے تھے۔ہندوستان کے اکثر مبلغین ان کے شاگرد ہیں اور ان سے انہوں نے فیض پایا۔اور طبیعت میں ان کی بہت سادگی تھی۔کلام میں اختصار تھا، زیادہ باتیں نہیں کرتے تھے لیکن ان کی بات بڑی علمی اور ٹھوس ہوتی تھی۔نائب صدر خدام الاحمدیہ بھارت کے طور پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔چونیتس سال کا طویل عرصہ آپ نے بطور نائب ایڈیٹر اخبار بدر خدمت کی توفیق پائی۔ایڈیٹر مشکوۃ بھی رہے۔تاریخ احمدیت بھارت کی کمیٹی کے بھی ممبر تھے۔روحانی خزائن کا جو کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن چھپا تھا اس میں انہوں نے پروف ریڈنگ کی بعض غلطیاں نکالیں۔اس کے بعد پھر ان کے کہنے پر ان کی درستیاں کی گئیں۔بڑی باریک بینی سے ہر چیز دیکھا کرتے تھے۔پروف ریڈنگ کرتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتب جو علیحدہ علیحدہ شائع ہوئی ہیں ان کی مکمل پروف ریڈنگ کی خصوصاً براہین احمدیہ اور آریہ دھرم اور ست بچن و غیرہ۔اور ان کتب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانب سے دیے گئے جو حوالہ جات تھے ان کے اصل ماخذ اور گر نتھوں اور ویدوں سے نہایت باریکی سے چیک کرتے ہوئے ایک ایک لفظ کے تلفظ اور ترجمہ میں جو فرق نظر آتا تھا اس کی نشاندہی کرتے تھے۔ان کی خاصیت تھی ہر معاملے میں اپنی تحقیق کو کمال تک پہنچاتے۔انہوں نے آریہ دھرم اور ست بچن کے حوالہ جات کی تلاش اور جائزہ اور چیکنگ بڑی محنت سے کی۔یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس کتاب کو ہندوؤں اور سکھوں کے لیے بطور سند پیش کیا گیا ہے اور کتب ان دونوں مذاہب کے مقابل پر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔اس لیے بڑی باریکی سے ان کو چیک کرنا ہو گا اور حوالے درست کرنے ہوں گے۔قرآن کریم جو شائع ہوا ہے اب ہماری طرف سے ”خط منظور “ میں اس کے سافٹ ویئر کی تیاری میں بھی ان کی بہت خدمات ہیں۔یہ بمبئی کی کمپنی سے بنوایا گیا تھا اور اس میں انہوں نے بہت کام کیا ہے۔دن رات انہوں