خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 303

خطبات مسرور جلد 19 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء فرمایا کہو: اللهُ مَوْلَنَا وَلَا مَوْلى لَكُمْ عزامی کیا چیز ہے۔ہمارے ساتھ اللہ ہمارامد دگار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مدد گار نہیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے کہا کہ لڑائی ایک ڈول کی طرح ہوتی ہے جو کبھی چڑھتا اور کبھی گرتا ہے۔پس یہ دن بدر کے دن کا بدلہ سمجھو اور تم میدان جنگ میں ایسی لاشیں پاؤ گے جن کے ساتھ مثلہ کیا گیا ہے۔میں نے اس کا حکم نہیں دیا مگر جب مجھے اس کا علم ہوا تو مجھے اپنے آدمیوں کا یہ فعل کچھ بُرا بھی نہیں لگا۔اور ہمارے اور تمہارے درمیان آئندہ سال انہی ایام میں بدر کے مقام میں پھر جنگ کا وعدہ رہا۔ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے ماتحت جواب دیا کہ بہت اچھا یہ وعدہ رہا۔بہر حال یہ کہہ کر ابوسفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر نیچے اتر گیا اور پھر قریش کا لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 498-499) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد کے بعد مدینہ پہنچے تو منافقین اور یہود خوشیاں منانے لگے اور مسلمانوں کو برابھلا کہنے لگے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے طلبگار ہیں اور آج تک کسی نبی نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا انہوں نے اٹھایا۔خود بھی زخمی ہوئے اور ان کے اصحاب بھی زخمی ہوئے۔اور کہتے تھے کہ اگر تمہارے وہ لوگ جو قتل ہوئے ہمارے ساتھ رہتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان منافقین کے قتل کی اجازت چاہی جو اس طرح یہ باتیں کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اس شہادت کا اظہار نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔کلمہ تو پڑھتے ہیں ناں یہ لوگ۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کیوں نہیں۔یہ تو کہتے ہیں لیکن ساتھ منافقانہ باتیں بھی کر رہے ہیں۔حضرت عمر نے کہا لیکن یہ تلوار کے خوف سے اس طرح کہتے ہیں۔پس ان کا معاملہ ظاہر ہو گیا ہے۔اب جب ان کے دل کی باتیں نکل گئی ہیں اور اللہ نے ان کے کینوں کو ظاہر کر دیا ہے تو پھر ان سے انتقام لینا چاہیے۔ان کو سزا دینی چاہیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اُس کے قتل سے منع کیا گیا ہے جو اس شہادت کا اظہار کرے۔(السيرة الحلبية باب ذكر مغازيه غزوه احد، جلد 2 صفحه 348 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2002ء) جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا مجھے ایسے شخص کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔یہ ذکر ان شاء اللہ آئندہ چلے گا۔کچھ مرحومین کا اب میں نے ذکر کرنا ہے۔اس لیے یہاں ختم کرتا ہوں۔مظلوم فلسطینیوں کیلئے دعا: لیکن اس سے پہلے میں دعا کے لیے بھی کہنا چاہتا ہوں۔گذشتہ ہفتہ بھی میں نے کہا تھا۔مظلوم فلسطینیوں کے لیے دعا کریں۔گو کہ جنگ بندی ہو گئی ہے لیکن تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد کہیں نہ کہیں سے، کسی نہ کسی طریقے سے، کسی نہ کسی بہانے سے دشمن ان فلسطینیوں کو ظلم کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی وجہ بنتی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور فلسطینیوں کے لیے بھی حقیقی آزادی میسر آئے۔اللہ تعالیٰ ان کو ایسے لیڈر بھی عطا فرمائے جن میں عقل اور فراست بھی ہو اور مضبوطی بھی ہو ، جو اپنی بات کو کہنے اور اپنے حق لینے والے