خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 16
خطبات مسرور جلد 19 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء اس بیماری سے نہ صرف انفرادی طور پر ہر فرد معاشی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے ، صحت کے لحاظ سے جو ہو رہے ہیں وہ تو ہو رہے ہیں جو متاثرین ہیں۔لیکن عمومی طور پر ہر ایک معاشی لحاظ سے بھی متاثر ہو رہا ہے بلکہ بڑی بڑی امیر حکومتوں کی معیشتوں کی بھی کمریں ٹوٹ رہی ہیں۔دنیا داروں کے پاس اس کا صرف ایک حل ہے کہ پھر جب ایسی صور تحال ہو جائے گی، جب معیشت تباہ ہو جائے گی تو دوسرے چھوٹے ملکوں کی معیشتوں پر قبضہ کیا جائے، ان کو کسی طرح اپنے جال میں پھنسایا جائے، اپنے دام میں لایا جائے اور پھر بہانے بہانے سے ان کی دولتوں پر قبضہ کیا جائے۔اس کے لیے بلاک بنیں گے اور بن رہے ہیں۔سر د جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی اور اب کہا جانے لگا ہے کہ شروع ہو گئی ہے ایک طرح سے اور کوئی بعید نہیں کہ اصل ہتھیاروں کی جنگ بھی ہو جائے جو نہایت خوفناک جنگ ہو گی۔پھر یہ لوگ ایک اور گہرے کنویں میں گر جائیں گے۔غریب ملک تو پہلے ہی پیسے ہوئے ہیں امیر ملکوں کے عوام بھی پسیں گے اور بڑی خوفناک حد تک پسیں گے۔پس اس سے پہلے کہ دنیا اس حالت کو پہنچے ہمیں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے دنیا کو ہوشیار کرنا چاہیے۔پس یہ سال مبارکبادوں کا سال اُس وقت بنے گا جب ہم اپنے فرائض کو اس نہج پر ادا کرنے والے ہوں گے کہ لوگوں کو سمجھائیں، دنیا کو سمجھائیں اور ظاہر ہے کہ یہ سب کرنے کے لیے ہمیں اپنی حالتوں کے بھی جائزے لینے ہوں گے۔ہم جو زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے والے ہیں کیا ہماری اپنی حالتیں ایسی ہو چکی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ خالصہ اللہ اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہیں یا ابھی ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور ایک دوسرے سے پیار و محبت کے جذبات کو غیر معمولی معیاروں تک لانے کی ضرورت ہے۔پس ہر احمدی کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے سپر د ایک بہت بڑا کام کیا گیا ہے اور اس کے سر انجام دینے کے لیے پہلے اپنے اندر پیار اور محبت اور بھائی چارے کی فضا کو پیدا کریں، اپنے معاشرے میں، احمدی معاشرے میں اور پھر دنیا کو اس جھنڈے کے نیچے لائیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند کیا تھا اور جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا جھنڈا ہے۔تبھی ہم اپنی بیعت کے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں، تبھی ہم بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہیں، تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں اور تبھی ہم نئے سال کی مبارکباد دینے کے اور لینے کے مستحق قرار دیے جاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہر احمدی مرد، عورت، جوان، بچہ ، بوڑھا اس بات کو سمجھتے ہوئے یہ عہد کرے کہ اس سال میں نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک احمدی کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آج کل پاکستان کے احمدیوں کے لیے اور الجزائر کے احمدیوں کے لیے دعا کی طرف بھی میں توجہ دلا رہا ہوں۔ان کو اپنی دعاؤں میں بھی یادر کھیں۔پاکستان میں بعض جگہ بعض مولوی اور سرکاری اہلکار ظلموں پر اترے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے ناقابل اصلاح لوگوں کی جلد پکڑ کے سامان کرے۔اللہ تعالیٰ کے تو علم میں ہے کن کی اصلاح ہونی ہے اور کن کی نہیں ہوئی۔جن کی نہیں ہوئی تو پھر ان کی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔