خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد 19 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء میں جو کچھ کر رہا تھا خدا کے لئے کر رہا تھا اگر اس کے بعد میں نے لڑائی جاری رکھی تو تیرا خاتمہ میرے نفس کے غصہ کی وجہ سے ہو گا۔" یعنی حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس یہودی کو ختم کرنا میرے ذاتی غصہ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے "خدا کی رضا کے لئے نہیں ہو گا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت میں تجھے چھوڑ دوں۔جب غصہ جاتا رہے گا تو پھر خدا کے لئے میں تجھے گرالوں گا۔" (احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔۔۔۔انوار العلوم جلد 16 صفحه 132) باقی ان شاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔اس وقت میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور پہلا جمعہ ہے۔دعا کریں کہ یہ سال جماعت کے لیے، دنیا کے لیے، انسانیت کے لیے بابرکت ہو۔ہم بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے اور اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے والے ہوں اور دنیا والے بھی اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے بن جائیں اور ایک دوسرے کے حقوق کو پامال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والے بن جائیں ورنہ پھر اللہ تعالیٰ اپنے رنگ میں دنیا والوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہے۔کاش کہ ہم اور دنیا کے تمام لوگ اس اہم نکتے کو سمجھ جائیں اور اپنی دنیاو عاقبت سنوار سکیں۔گذشتہ ایک سال سے ہم ایک نہایت خطرناک وبائی مرض کا سامنا کر رہے ہیں اور دنیا کا کوئی ملک بھی اس وبا سے باہر نہیں ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ، لیکن لگتا ہے کہ اکثریت دنیا کی اس بات کی طرف توجہ نہیں دینا چاہتی کہ کہیں یہ وبا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں اپنے حقوق و فرائض کی طرف توجہ دلانے کے لیے نہ ہو۔یہ نہیں سوچنا چاہتے۔یہ تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہلانا چاہتا ہے، بتانا چاہتا، توجہ دلانا چاہتا ہے۔اس طرف کسی کی سوچ نہیں ہے۔چند ماہ پہلے میں نے بہت سے سر بر اہان حکومت کو اس طرف توجہ دلانے کے لیے خطوط لکھے تھے اور کو وڈ کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ یہ آفات خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے حقوق و فرائض بھولنے اور ادانہ کرنے بلکہ ظلم میں بڑھنے کی وجہ سے آتی ہیں اس لیے توجہ کریں۔بعض سربراہان نے جواب بھی دیے لیکن ان کے دنیا داری والے جواب تھے کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں ( دنیا کی نظر سے اُبالی باتیں کیں، دین والی بات نہیں کی۔خدا کا بہت بڑا خانہ جو بیچ میں تھا اور میں نے بیان کیا تھا اس کا ذکر ہی نہیں کیا) اور ضرور ایسا ہونا چاہیے لیکن نہ اپنی حالتوں کو بدلنے کی طرف عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں یہ لوگ، نہ قوم کے ہمدرد بن کر قوم کو اصل مقصد کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔یہ جاننے کے باوجود کہ اس وبا کے بعد کے اثرات بہت خطرناک ہوں گے ، یہ دنیا کے ہر لیڈر کو پتہ ہے ، ہر عقل مند انسان کو پتہ ہے ، ہر تجزیہ نگار کو یہ پتہ ہے لیکن اس کے باوجو د اصل حل کی طرف توجہ نہیں ہے صرف دنیا کی جو کوششیں ہیں اسی کی طرف توجہ ہے۔