خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 302

خطبات مسرور جلد 19 302 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء جو موت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائی وہ ہمیں بھی نصیب ہو اور پھر آپ کے بعد زندگی کا بھی کیا لطف ہے ! اور پھر ان کے سامنے سعد بن معاذ آئے تو انہوں نے یعنی حضرت انس نے کہا کہ سعد مجھے تو پہاڑی سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔یہ کہہ کر انس دشمن کی صف میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور جنگ کے بعد دیکھا گیا تو ان کے بدن پر اسی سے زیادہ زخم تھے اور کوئی پہچان نہ سکتا تھا کہ یہ کس کی لاش ہے۔آخر ان کی بہن نے ان کی انگلی دیکھ کر شناخت کیا۔احد کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ پہاڑ کی گھاٹی پر پہنچے ہی تھے کہ کفار کے ایک گروہ نے گھائی پر حملہ کیا۔ان میں خالد بن ولید بھی تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا کی کہ : اللهم إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَعْلُوْنَا (ماخوذ از سیرت خاتم النبيين صفحه 493 تا 495) اے اللہ ! یہ لوگ ہمارے پاس نہ پہنچ سکیں۔اس پر حضرت عمر بن خطاب نے چند مہاجرین کے ساتھ ان مشرکین کا مقابلہ کیا اور مارتے مارتے ان کو بھگا دیا۔(سيرة ابن هشام صفحه 537 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس درہ کی طرف بڑھا جہاں مسلمان جمع تھے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر پکار کر بولا کہ مسلمانو! کیا تم میں محمد ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔کوئی جواب نہ دے۔چنانچہ سب صحابہ خاموش رہے۔پھر اس نے ابو بکر و عمر نکا پوچھا مگر اس پر پر بھی آپ کے ارشاد کے ماتحت کسی نے جواب نہ دیا۔جس پر اس نے بلند آواز سے فخر کے لہجہ میں کہا کہ یہ سب لوگ مارے گئے ہیں کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔اس وقت حضرت عمر سے نہ رہا گیا اور وہ بے اختیار ہو کر بولے۔اے عدو اللہ تو جھوٹ کہتا ہے۔ہم سب زندہ ہیں اور خدا ہمارے ہاتھوں سے تمہیں ذلیل کرے گا۔ابوسفیان نے حضرت عمرؓ کی آواز پہچان کر کہا کہ عمر سچ سچ بتاؤ کیا محمد زندہ ہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاں ہاں خدا کے فضل سے وہ زندہ ہیں اور تمہاری یہ باتیں سن رہے ہیں۔ابوسفیان نے کسی قدر دھیمی آواز میں کہا۔تو پھر ابن قمیہ نے جھوٹ کہا ہے کیونکہ میں تمہیں اس سے زیادہ سچا سمجھتا ہوں۔اس کے بعد ابوسفیان نے نہایت بلند آواز سے پکار کر کہا: أغل حُبَل۔یعنی اے ہبل تیری شان بلند ہو۔صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا خیال کر کے خاموش رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنے نام پر تو خاموش رہنے کا حکم دیتے تھے اب خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بت کا نام آنے پر بے تاب ہو گئے اور فرمایا کہ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا یار سول اللہ ا کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا کہو: الله أغلى وَ اَجَلٌ۔یعنی بلندی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ابوسفیان نے کہا: لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ۔ہمارے ساتھ عربی ہے اور تمہارے ساتھ عرابی نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے