خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 301
خطبات مسرور جلد 19 301 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021 ء نے یوں لکھی ہے کہ قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیر اڈال رکھا تھا اور اپنے پے در پے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا۔اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبد اللہ بن قمئہ نے مسلمانوں کے علمبر دار مصعب بن عمیر پر حملہ کیا جنہوں نے جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں بازو کاٹ گرایا۔مصعب نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور ابن قمئہ کے مقابلہ کے لیے آگے بڑھے مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔اس پر مصعب نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا جس پر ابن قمئہ نے ان پر تیسر اوار کیا اور اب کی دفعہ مصعب شہید ہو کر گر گئے۔جھنڈا تو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مصعب کاڈیل ڈول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا تھا ابن قمئہ نے سمجھا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مار لیا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکا دہی کے خیال سے ہو۔بہر حال اس نے مصعب کے شہید ہو کر گرنے پر شور مچادیا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مار لیا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہو گئی۔بہت سے صحابی سراسیمہ ہو کر مید ان سے بھاگ نکلے۔اس وقت مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ایک گروہ وہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے بھاگ گیا تھا مگر یہ گر وہ سب سے تھوڑا تھا۔لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر آتا ہے اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔دوسر اگر وہ جو تھا اس گروہ میں وہ لوگ تھے جو بھاگے تو نہیں تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر یا تو ہمت ہار بیٹھے تھے اور یا اب لڑنے کو بیکار سمجھتے تھے اور اس لیے میدان سے ایک طرف ہٹ کر سر نگوں ہو کر بیٹھ گئے تھے اور تیسر اگر وہ وہ تھا جو برابر لڑ رہا تھا۔ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع تھے اور بے نظیر جان شاری کے جوہر دکھا رہے تھے اور اکثر وہ تھے جو میدان جنگ میں منتشر طور پر لڑ رہے تھے۔ان لوگوں اور نیز گروہ ثانی کے لوگوں کو جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ موجود ہونے کا پتہ لگتا جاتا تھا یہ لوگ دیوانوں کی طرح لڑتے بھڑتے آپ کے ارد گرد جمع ہوتے جاتے تھے۔بہر حال اس وقت نہایت خطر ناک لڑائی ہو رہی تھی اور مسلمانوں کے واسطے ایک سخت ابتلا اور امتحان کا وقت تھا اور جیسا بیان ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر بہت سے صحابہ ہمت ہار چکے تھے اور ہتھیار پھینک کر میدان سے ایک طرف ہو گئے تھے۔انہی میں حضرت عمررؓ بھی تھے جو مایوس ہو کے ایک طرف ہو کے بیٹھ گئے تھے۔چنانچہ یہ لوگ اسی طرح میدان جنگ کے ایک طرف بیٹھے تھے کہ اوپر سے ایک صحابی انس بن نضر انصاری آگئے اور ان کو دیکھ کر کہنے لگے کہ تم لوگ یہاں کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت پائی۔اب لڑنے سے کیا حاصل ہے ؟ انس نے کہا کہ یہی لڑنے کا وقت ہے تا