خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 300

خطبات مسرور جلد 19 300 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021 ء خسیس بن حذافہ کے عقد میں تھیں جو ایک مخلص صحابی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔بدر کے بعد مدینہ واپس آنے پر خنیس بیمار ہو گئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمرؓ کو حفصہ کے نکاح ثانی کا فکر دامن گیر ہوا۔اس وقت حفصہ کی عمر میں سال سے اوپر تھی۔حضرت عمرؓ نے اپنی فطرتی سادگی میں خود عثمان بن عفان سے مل کر ان سے ذکر کیا کہ میری لڑکی حفصہ اب بیوہ ہے، آپ اگر پسند کریں تو اس کے ساتھ شادی کر لیں، مگر حضرت عثمان نے ٹال دیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے ذکر کیا لیکن حضرت ابو بکر نے بھی خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔اس پر حضرت عمرؓ کو بہت ملال ہوا اور انہوں نے اسی ملال کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے ساری سرگذشت عرض کر دی۔آپ نے فرمایا۔عمرا کچھ فکر نہ کرو۔خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان وابو بکر کی نسبت بہتر خاوند مل جائے گا اور عثمان کو حفصہ کی نسبت بہتر بیوی ملے گی۔یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ حفصہ کے ساتھ شادی کر لینے اور اپنی لڑکی ام کلثوم کو حضرت عثمان کے ساتھ بیاہ کر دینے کا ارادہ کر چکے تھے جس سے حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان دونوں کو اطلاع تھی اور اسی لئے انہوں نے حضرت عمرؓ کی تجویز کو ٹال دیا تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کی شادی فرما دی اور اس کے بعد آپ نے خود اپنی طرف سے حضرت عمر کو حفصہ کے لئے پیغام بھیجا۔حضرت عمر کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا اور شعبان تین ہجری میں حضرت حفصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آکر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔جب یہ رشتہ ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی ملال ہو۔بات یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے اطلاع تھی لیکن میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ہاں اگر آپ کا یہ ارادہ نہ ہو تا تو میں بڑی خوشی سے حفصہ سے شادی کرلیتا۔حفصہ کے نکاح میں ایک تو یہ خاص مصلحت تھی کہ وہ حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں جو گویا حضرت ابو بکر کے بعد تمام صحابہ میں افضل ترین سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقربین خاص میں سے تھے۔پس آپس کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنے اور حضرت عمرؓ اور حفصہ کے اس صدمہ کی تلافی کرنے کے واسطے جو خنیس بن حذافہ کی بے وقت موت سے ان کو پہنچا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ حفصہ سے خود شادی فرمالیں اور دوسری عام مصلحت یہ مد نظر تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی زیادہ بیویاں ہوں گی اتنا ہی عورتوں میں جو بنی نوع انسان کا نصف حصہ بلکہ بعض جہات سے نصف بہتر حصہ ہیں دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا کام زیادہ وسیع پیمانے پر اور زیادہ آسانی سے اور زیادہ خوبی کے ساتھ ہو سکے گا۔" (سیرت خاتم النبین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 477-478) حضرت عمرؓ کے حوالے سے غزوہ احد کے بارے میں لکھا ہے۔غزوہ احد کے موقع پر جب خالد بن ولید نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان اس اچانک حملے سے سنبھل نہ سکے۔اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب