خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد 19 299 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء مطابق الہی حکم نازل ہوا۔"جب الہی حکم بھی فدیہ دینے کے بارے میں نازل ہو گیا جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی لکھا ہے تو پھر اس حدیث کو بنیاد بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکڑ کے رونے کا جواز پیدا کر ناتو عجیب سی بات لگتی ہے۔بہر حال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں " چنانچہ ہر شخص کے مناسب حال ایک ہزار درہم سے لے کر چار ہزار درہم تک اس کا فدیہ مقرر کر دیا گیا اس طرح سارے قیدی رہا ہوتے گئے۔" (سیرت خاتم النبيين "صفحہ 367-368) حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کے بارے میں جو ذکر ملتا ہے کہ حضرت حفصہ کے شوہر جنگ بدر میں شریک ہوئے اور جنگ سے واپسی پر بیمار ہو کر انتقال کر گئے تو بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کے ساتھ شادی کی۔اس کی تفصیل بخاری میں یوں درج ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ جب حضرت حفصہ بنت عمر خُنَيْس بن حُذَافَهُ سَهْی سے بیوہ ہو ئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک تھے۔مدینہ میں انہوں نے وفات پائی تو حضرت عمرؓ نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان سے ملا ان کے پاس حفصہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔حضرت عثمان نے کہا میں اپنے اس معاملے پر غور کروں گا۔حضرت عمر کہتے ہیں چنانچہ میں کئی روز تک ٹھہرا رہا۔پھر حضرت عثمان نے کچھ دنوں کے بعد کہا کہ مجھے یہی مناسب معلوم ہوا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔حضرت عمرؓ کہتے تھے۔پھر میں حضرت ابو بکر سے ملا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔حضرت ابو بکر خاموش ہو گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ عثمان کی نسبت میں نے ان سے زیادہ محسوس کیا یعنی احساس زیادہ ہوا کہ انہوں نے بھی انکار کر دیا ہے۔پھر میں کچھ دن ٹھہرا رہا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ سے ان کا نکاح کر دیا۔جب نکاح ہو گیا تو پھر حضرت ابو بکر مجھ سے ملے اور کہا جب آپ نے حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا تو شاید آپ نے مجھ سے میرے نہ کرنے پہ ، انکار کرنے پہ کچھ محسوس کیا تھا۔میں نے کہا جی ہاں میں نے محسوس کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ دراصل جو بات آپ نے پیش کی تھی اس کی نسبت آپ کو جواب دینے سے مجھے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ مجھے علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ راز ظاہر کرتا۔یعنی حضرت ابو بکر کو یہ علم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ سے رشتہ کا اظہار کیا تھا۔تو کہتے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راز تھا میں اس کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے ترک کر دیتے تو میں ضرور تمہارے اس رشتہ کو قبول کر لیتا۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب، حدیث نمبر 4005) یہ حضرت ابو بکر نے جواب دیا۔اس واقعہ کی کچھ تفصیل سیرت خاتم النبیین میں بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے۔کہتے ہیں کہ "حضرت عمر بن خطاب کی ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام حفصہ تھا، وہ