خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 298
خطبات مسرور جلد 19 298 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021 ء تو حضرت ابو بکر کی رائے مختلف تھی، حضرت عمر کی رائے مختلف تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دیا۔لیکن (مفسرین) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو گویا خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو نا پسند فرمایا۔قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا اور فدیہ نہیں لینا چاہیے تھا۔یہ طبری کی تفسیر میں ہے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں مگر یہ تفسیر غلط ہے۔اول اس وقت تک خدا نے کوئی ایسا حکم نازل نہیں کیا تھا کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر نہ چھوڑا جائے۔اس لیے فدیہ قبول کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی الزام نہیں آسکتا تھا۔دوم اس سے پیشتر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلہ کے مقام پر دو آدمیوں سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا تھا اور خدا نے آپ کے اس فعل کو نا پسند نہیں فرمایا تھا۔سوم صرف دو آیتیں اور آگے چل کر خدا مسلمانوں کو اجازت دیتا ہے کہ مال غنیمت سے جو کچھ تم کو ملے اس کو کھاؤ وہ حلال اور طیب ہے۔یہ بات کسی کے وہم میں بھی نہیں آسکتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فدیہ لینے کو خدا نا پسند کرے اور اس طرح جو روپیہ حاصل ہو اس کو حلال اور طیب فرمائے اس لیے یہ تفسیر ہی غلط ہے اور صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس آیت میں ایک عام اصول مقرر فرما دیا ہے کہ قیدی اسی صورت میں پکڑے جاسکتے ہیں کہ با قاعدہ جنگ ہو اور دشمن کو کاری ضربیں لگا کر مغلوب کر دیا گیا ہو۔(ماخوذ از دروس حضرت مصلح موعود ( غیر مطبوعہ ) سورۃ الانفال ، رجسٹر نمبر 36 صفحہ 968-969) مفسرین قرآن میں سے علامہ امام رازی اور معروف سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی کا بھی یہی موقف ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ہے۔(تفسیر کبیر علامه امام رازی جلد 8 جزء 15 صفحه 158 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) الله سة (سیرت النبی صلی الهام از شبلی نعمانی جلد اول صفحه 194 مطبوعہ آر۔زیڈ پیکجز لا ہور 1408ھ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔عرب میں بالعموم قیدیوں کو قتل کر دینے یا مستقل طور پر غلام بنا لینے کا دستور تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی اور پھر ابھی تک اس بارہ میں کوئی الہی احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میری رائے میں تو ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور کیا تعجب کہ کل کو انہی میں سے فدایانِ اسلام پیدا ہو جائیں مگر حضرت عمرؓ نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا کہ دین کے معاملہ میں رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں ہونا چاہئے اور یہ لوگ اپنے افعال سے قتل کے مستحق ہو چکے ہیں۔پس میری رائے میں ان سب کو قتل کر دینا چاہئے بلکہ حکم دیا جاوے کہ مسلمان خود اپنے ہاتھ سے اپنے اپنے رشتہ داروں کو قتل کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فطری رحم سے متاثر ہو کر حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور قتل کے خلاف فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ جو مشرکین اپنا فدیہ وغیرہ ادا کر دیں انہیں چھوڑ دیا جاوے۔چنانچہ بعد میں اسی کے