خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 297

خطبات مسرور جلد 19 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء مَا كَانَ لِنَبِي أَن تَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُفْخِنَ فِي الْأَرْضِ (الانفال: 68) یعنی کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کے بغیر قیدی بنائے اور پھر اگلی دو آیتیں چھوڑ کے ہے کہ: فَكُلُوا مَا غَنِمْتُمْ حَلَلًا طَيِّبًا (الانفال:70) یعنی پس جو مال غنیمت تم حاصل کرو اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ۔پس اللہ نے ان کے لیے غنیمتیں جائز کر دیں۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔(صحیح مسلم کكتاب الجهاد والسير باب الإِمْدَادِ بِالْمَلَائِكَةِ حديث 4588) اس حدیث کے شروع کے الفاظ جو ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رو رہے تھے اور پھر آگے جو قرآنی آیات کے الفاظ ہیں ان میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ اس روایت کو مبہم سا کر دیتا ہے۔واضح نہیں کرتا، بات واضح نہیں ہوتی۔بہر حال اس روایت کو صحیح سمجھ کے اکثر کتب تاریخ اور سیرت اور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا جنگ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے والے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور حضرت عمرؓ کی رائے کو پسند فرمایا۔حضرت عمر کی سیرت و سوانح لکھنے والے جب ایک الگ باب باندھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی رائے پر کون کون سے قرآنی احکام نازل ہوئے تو ان میں سے ایک یہ بھی درج کیا جاتا ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر کی رائے کو اللہ تعالی نے ترجیح دی، لیکن یہ مبہم ہے۔جیسا کہ میں نے کہا واضح نہیں ہو تا بلکہ لگتا ہے کہ سیرت نگاروں اور مفسرین کو اس کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو جو بیان فرمایا ہے تو آپ کے غیر مطبوعہ تفسیری نوٹس میں سے ایک نوٹ ملا ہے جو ان روایات کی تردید کرتا ہے اور حضرت مصلح موعود کی جو یہ وضاحت ہے وہی صحیح لگتی ہے۔بلا وجہ حضرت عمرؓ کے مقام کو اونچا کرنے کے لیے لگتا ہے کہ انہوں نے یہ روایت بنادی یا اس کو غلط سمجھا گیا۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ سورہ انفال کی آیت نمبر اڑسٹھ (68) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا اور لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں اب تک یہ چلا آتا ہے کہ اگر جنگ نہ بھی ہو اور لڑائی نہ بھی ہو تب بھی قیدی پکڑ لیتے ہیں اور ان کو غلام بنا لیتے ہیں۔یہ آیت اس فتیح رسم کو منسوخ کرتی ہے اور صاف صاف الفاظ میں حکم دیتی ہے کہ صرف جنگ کی حالت میں اور لڑائی کے بعد ہی دشمن کے آدمی قیدی بنائے جاسکتے ہیں۔اگر لڑائی نہ ہو رہی ہو تو کسی آدمی کو قیدی بنانا جائز نہیں۔اس آیت کی بڑی غلط تفسیر کی گئی ہے۔کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے جنگ بدر کے موقع پر مکہ والوں کے کچھ قیدی پکڑ لیے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہیے۔حضرت عمر کی رائے تھی کہ ان کو قتل کر دینا چاہیے۔حضرت ابو بکر کی رائے تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور یہ سورۃ انفال کی 68 آیت ہے جس میں یہ ہے کہ کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کرے۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو رائے لی گئی تھی اس میں