خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 296

خطبات مسرور جلد 19 296 بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب بھی یہی واقعہ ہے کہ : خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021 ء كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكُرِهُونَ (الانفال:6) کہ جیسے تیرے رب نے تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکالا تھا حالانکہ مومنوں میں سے ایک گروہ اسے یقین نا پسند کرتا تھا۔اس وقت حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور گفتگو کی اور بہت عمدہ گفتگو کی۔پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور گفتگو کی اور بہت عمدہ گفتگو کی۔پھر مقداد کھڑے ہوئے اور عرض کیا یار سول اللہ ! جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے اس کی طرف چلیے۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اللہ کی قسم ! ہم آپ سے یہ نہ کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا کہ : فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ (المائدة: 25) پس جاتو اور تیر ارب دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم لوگ آپ کے ساتھ قتال کریں گے جب تک کہ ہم میں جان ہے۔(السيرة الحلبيه باب ذکر مغازيه جلد 2 صفحه 205 206 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) (فرہنگ سیرت صفحہ 125) بدر کے قیدی اور حضرت عمر کا مشورہ اور ایک وضاحت: حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے قیدیوں کو پکڑ یعنی بدر کے موقع پر مسلمانوں نے قیدیوں کو پکڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے فرمایا: ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ! وہ ہمارے چچازاد اور رشتہ دار ہیں۔میرا خیال ہے آپ ان سے فدیہ لے لیں۔وہ ہمارے لیے ان کفار کے مقابلے میں قوت کا باعث ہو گا اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اسلام کی طرف راہنمائی فرمائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا: نہیں یار سول اللہ ! اللہ کی قسم ! میری وہ رائے نہیں ہے جو ابو بکر کی رائے ہے، بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے سپرد کر دیں۔ہم ان کی گردنیں مار دیں اور علی کے سپر د عقیل کو کریں کہ وہ اس کی گردن مارے اور میرے سپر دفلاں کو کریں جو نسباً حضرت عمر کارشتہ دار تھا تو میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ سب کفار کے لیڈر اور ان کے سردار ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کی بات کو ترجیح دی۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میری بات کو ترجیح نہ دی۔اگلے دن میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر بیٹھے رورہے تھے۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے بتائیے کس چیز نے آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رلایا ہے۔اگر مجھے رونا آیا تو میں بھی روؤں گاو گرنہ میں آپ دونوں کے رونے کی طرح رونے کی صورت بناؤں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے جو تمہارے ساتھیوں نے میرے سامنے ان سے فدیہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت سے زیادہ قریب پیش کیا گیا ہے جو درخت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔