خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد 19 295 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 / مئی 2021ء بمطابق 21 / ہجرت 1400 ہجری " بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت عمرؓ کی غزوات میں شمولیت: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا تھا۔آپ نے جن غزوات اور سرایا میں شرکت کی اس کے بارے میں آج کچھ بیان کرتا ہوں۔حضرت عمر بن خطاب بدر ، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔اس کے علاوہ متعد د سر ایا میں بھی شریک ہوئے جن میں سے بعض سرایا کے آپ امیر بھی تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 206 دار الكتب العلمية بيروت 2012ء) غزوہ بدر کے لیے روانگی کے وقت صحابہ کے اونٹوں کی تعداد جو ان کے پاس تھے ستر تھی۔اس لیے ایک ایک اونٹ تین تین آدمیوں کے لیے مقرر کرنا پڑا اور ہر ایک باری باری سوار ہو تا تھا۔حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔(السيرة الحلبيه باب ذکر مغازيه جلد 2 صفحه 204 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) بدر کے لیے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی فرمائی تو اس کے ذکر میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے قافلہ کی روک تھام کے لیے مدینہ سے نکلے جو شام کی طرف سے آرہا تھا۔جب مسلمانوں کا قافلہ ذفران پہنچا، یہ مدینہ کے نواح میں وادی صفراء کے قریب ایک وادی ہے ، تو آپ کو خبر ملی کہ قریش اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے نکل پڑے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کر اہم سے مشورہ طلب کیا اور ان کو یہ خبر دی کہ مکہ سے ایک لشکر انتہائی تیز رفتاری سے نکل پڑا ہے۔اس بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ کیا لشکر کے مقابلہ میں تجارتی قافلہ تم کو زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔یعنی ایک گروہ نے کہا ہم دشمن کے مقابلے میں تجارتی قافلے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ایک روایت میں ذکر ملتا ہے کہ ایک گروہ نے کہا کہ اگر آپ ہم سے جنگ کا ذکر کرتے تو ہم اس کی تیاری کر لیتے۔ہم تو تجارتی قافلے کے لیے نکلے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو تجارتی قافلے کی طرف ہی جانا چاہیے اور آپ دشمن کو چھوڑ دیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔حضرت ابوایوب