خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء عداوت کے سلسلوں کو وسیع کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کیا بات ہو گی ؟" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 105) پھر آپ نے ایک اور موقع پر تفصیل سے بیان فرمایا اور اس پر مزید روشنی ڈالی۔فرماتے ہیں کہ "جوش نفسانی اور للہی جوش میں فرق کے واسطے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے سبق حاصل کرو۔لکھا ہے کہ حضرت علی کا ایک کافر پہلوان کے ساتھ جنگ شروع ہوا۔بار بار آپ اس کو قابو کرتے تھے وہ قابو سے نکل جاتا تھا۔آخر اس کو پکڑ کر اچھی طرح سے جب قابو کیا اور اس کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور قریب تھا کہ خنجر کے ساتھ اس کا کام تمام کر دیتے کہ اس نے نیچے سے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔جب اس نے ایسا فعل کیا تو حضرت علی اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا اور الگ ہو گئے۔اس پر اس نے تعجب کیا اور حضرت علی سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر تکلیف کے ساتھ پکڑا اور میں آپ کا جانی دشمن ہوں اور خون کا پیاسا ہوں۔پھر باوجو د ایسا قابو پا چکنے کے آپ نے مجھے اب چھوڑ دیا۔یہ کیا بات ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی ذاتی عداوت نہیں۔چونکہ تم دین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں کو دکھ دیتے ہو اس واسطے تم واجب القتل ہو اور میں محض دینی ضرورت کے سبب تم کو پکڑتا تھا۔لیکن جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا اور اس میں مجھے غصہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ اب نفسانی بات درمیان میں آگئی ہے۔اب اس کو کچھ کہنا جائز نہیں تاکہ ہمارا کوئی کام نفس کے واسطے نہ ہو۔جو ہو سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہو۔جب میری اس حالت میں تغیر آئے گا اور یہ غصہ دور ہو جائے گا تو پھر وہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔اس بات کو سن کر کافر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تمام کفر اس کے دل سے خارج ہو گیا اور اس نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر اور کون سادین دنیا میں اچھا ہو سکتا ہے جس کی تعلیم کے اثر سے انسان ایسا پاک نفس بن جاتا ہے۔پس اس نے اسی وقت تو بہ کی اور مسلمان ہو گیا۔" پس یہ ہے اصل تقوی جو نتیجہ بھی دکھاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کم و بیش اس یہودی کی حضرت علی سے لڑائی کے واقعہ کو اسی طرح بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ "حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں شامل تھے۔ایک بہت بڑا دشمن جس کا مقابلہ بہت کم لوگ کر سکتے تھے آپ کے مقابلہ پر آیا اور کئی گھنٹے تک آپ کی اور اس یہودی پہلوان کی لڑائی ہوتی رہی۔آخر کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد آپ نے اس یہودی کو گر الیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ خنجر سے اس کی گردن کاٹ دیں کہ اچانک اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اسے چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو گئے اور وہ یہودی سخت حیران ہوا اور کہنے لگا یہ عجیب بات ہے کہ کئی گھنٹے کی کشتی کے بعد آپ نے مجھے گرایا ہے اور اب یکدم مجھے چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔یہ آپ نے کیسی بیوقوفی کی ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا: میں نے بیوقوفی نہیں کی بلکہ جب میں نے تمہیں گرایا اور تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو یکدم میرے دل میں غصہ پید ا ہوا کہ اس نے میرے منہ پر کیوں تھو کا ہے مگر ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اب تک تو (ملفوظات جلد 9 صفحہ 219)