خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد 19 292 نه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2021ء بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر تو ہے کہ : " اے دل تو نیز خاطر اینان نگاه دار کاآخر کنند دعوئے حُبّ پیمبر م " (ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 182) یعنی اے ہمارے مامور ! یہ مسلمان جو تمہیں گالیاں دیتے ہیں، اگر یہ الہاما ہے تو اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ پھر بھی تو ان کا لحاظ کر۔آخر یہ تمہیں کیوں گالیاں دیتے ہیں، تمہیں مارنے کیوں دوڑتے ہیں اور تم پر حملہ آور کیوں ہوتے ہیں؟ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہی تمہیں مارتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔اس لیے ان کا لحاظ رکھنا بڑا ضروری ہے۔جس عشق کی وجہ سے یہ مار رہے ہیں، وہ جس وجہ سے مار رہے ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اس لیے اس غلط فہمی کی وجہ سے ہو یا جو بھی وجہ ہے تم ان کا لحاظ کرو۔بد دعانہ کرو۔آنحضرت صلی اللہ وسلم سے غیر معمولی محبت کا اعلان: غرض ہماری جو مخالفت ہوتی ہے تو تمہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے کیا بات ہے۔کیا یہ لوگ جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری چائے جو ہے وہ شراب سے بھی بدتر ہے اور شراب پینا جائز ہو سکتا ہے لیکن احمدیوں کی چائے پینی جائز نہیں ہو سکتی۔حضرت مصلح موعود یہ بیان کر کے فرماتے ہیں کہ اگر انہیں پتہ لگ جائے کہ میرے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جو شعلہ جل رہا ہے وہ ان کے لاکھوں لاکھ کے اندر بھی نہیں جل رہا تو آپ نے فرمایاوہ فورا تمہارے، احمدیوں کے قدموں میں گر جائیں گے۔یہ لوگ مخالفت اسی لیے کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں۔یہ مخالفت بعض غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ہے۔پھر اپنی تفصیل بیان کرنے کے بعد آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اگر لوگ مخالفتیں کرتے ہیں اور مجھے یا بانی سلسلہ احمدیہ کو یا تمہیں برا بھلا کہتے ہیں تو جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تمہارے بھائی ہیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔پس تم بجائے ناراض ہونے کے دعائیں کرو اور ان مخالفت کرنے والوں کو اصل حقیقت سے واقف کرو۔جب تم انہیں اصل حقیقت سے واقف کر دو گے تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نہیں بلکہ آپ کے سچے عاشق ہیں اور وہی لوگ جو ہمیں مارنے پر آمادہ ہیں ہماری خاطر مرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔(ماخوذ از بھیرہ کی سر زمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر ، انوار العلوم جلد 22 صفحہ 84 تا 86) بہر حال ہمیں اپنے مخالفین کے لیے دعا کرنی چاہیے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی ہمیں سکھایا ہے کہ دعائیں کرو۔انہی میں سے قطرات محبت ٹپکتے ہیں، انہی میں سے لوگ ایمان لائیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارے میں رہتا تھا یعنی اوپر کی منزل میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکان کے نچلے حصہ میں رہتے تھے کہ ایک رات نچلے حصہ سے مجھے اس طرح