خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد 19 293 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2021 ء رونے کی آواز آئی جیسے کوئی عورت دردزہ کی وجہ سے چلاتی ہے۔مجھے تعجب ہوا اور میں نے کان لگا کر آواز کو سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کر رہے تھے اور آپ کہہ رہے تھے کہ اے خدا ! طاعون پڑی ہوئی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔اے خدا! اگر یہ سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔دوسری جگہ واقعہ تو یہی ہے لیکن حوالہ یہ ہے کہ ساتھ کی کوٹھڑی میں تھے اور دروازے سے آواز آرہی تھی۔بہر حال واقعہ یہی بیان ہوا ہے جو آپ بیان کر رہے ہیں۔آپ دعا کر رہے تھے کہ اگر یہ لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا؟ اب دیکھو طاعون وہ نشان تھا جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔طاعون کے نشان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں سے بھی پتہ لگتا ہے لیکن جب یہ طاعون آتی ہے تو وہی جس کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے وہ آتی ہے خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ ! اگر یہ لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا؟ پس مومن کو عام لوگوں کے لیے بد دعا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ انہی کے بچانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔عام لوگوں کو بچانا ہی ایک مومن کا کام ہے۔اگر وہ ان کے لیے بد دعا کرے گا تو بچائے گا کس کو ؟ پھر تو مر گئے سارے اگر دعا قبول ہوتی ہے۔احمدیت قائم ہی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ اسلام کو بچائے۔احمدیت قائم ہی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچائے۔انسان کی عظمت انہیں واپس دلائے۔پس جن لوگوں کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے کے لیے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے ان کے لیے ہم بددعا کیسے کر سکتے ہیں؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ آخر تم سے زیادہ خدا تعالیٰ کی غیرت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے اپنے الہام میں وہی فرمایا کہ: اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاآخر کنند دعوای حب پیمبرم اس میں خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے منہ سے کہلاتا ہے۔آپؐ نے بھیرہ میں غالباً یہ تقریر کی تھی اس میں فرمایا تھا۔اس شعر کو بیان کرتے ہوئے یہ دوبارہ ایک اور واقعہ ہے۔پہلے اور واقعہ تھا۔لاہور کا تھا، یہ بھیرے کا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے منہ سے کہلاتا ہے کہ اے میرے دل ! تو ان لوگوں کے خیالات اور جذبات اور احساسات کا خیال رکھا کر تا ان کے دل میلے نہ ہوں۔یہ نہ ہو کہ تُو تنگ آکر بد دعا کرنے لگ جائے۔آخر ان کو تیرے رسول سے محبت ہے اور وہ اسی محبت کی وجہ سے ہے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔تجھے گالیاں دیتے ہیں، یہ جو گالیاں تجھے دیتے ہیں وہ اسی وجہ سے ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ان کو محبت ہے۔یہ اس کی وجہ ہے۔یہی اصل چیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں میں سے ایک حصہ ناواجب مخالفت کر رہا ہے لیکن ایک حصہ محض ان کے جال میں پھنس گیا ہے۔اس لیے وہ ہماری مخالفت کرتا ہے۔اور پاکستان میں تو جو اکثریت ہے یا دنیا کے اور ملکوں میں بھی وہ ان کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔گویا ان کی مخالفت ہمارے آقا کی محبت کی وجہ سے ہے۔جب ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں تو