خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 291

خطبات مسرور جلد 19 291 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2021 ء ضروری نہیں ہوتا کہ وہ مان بھی لیں گے لیکن ان مولویوں کو خطرہ ہوتا تھا کہ اگر انہوں نے حضرت مرزا صاحب کی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں سن لیں تو یہ لوگ ان کی بیعت کر لیں گے۔ان کو پتہ تھا کہ سچائی ان کے ساتھ ہے اس لیے روکتے تھے، نہ صرف روکتے تھے بلکہ حملے بھی کرتے تھے لیکن اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان لوگوں کے لیے دعاہی کی جو روکنے والے تھے اور اس طرح سختیاں کرنے والے تھے۔یہ دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے کہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو باوجو د مخالفت کے جماعت میں شامل ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں۔پس ہم تو مولوی کے اس بیان کے باوجود بھی کوئی فضول گوئی کرنے یا ان کی زبان کو استعمال کرنے والے نہیں ہیں۔ہم تو اس کے باوجو د دعا ہی کرتے رہیں گے اور جیسا کہ ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ ٹیکیں گے۔عوام الناس کے لیے، عامۃ المسلمین کے لیے ہم ان لوگوں کی سخت باتیں سننے کے بعد بھی دعا کرتے ہیں۔ان کی تکلیفوں پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور اس کی وجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم ہی ہے۔اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی تھا کہ ان کے یہ ظلم بھی غلط فہمی کی وجہ سے ہیں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہیں جس کا یہ دعوی کرتے ہیں۔عمل کریں یا نہ کریں لیکن دعوی ضرور ہے اس لیے ان کے لیے بد دعا نہیں کرنی۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں میں ابھی بچہ تھا۔لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دعوت سے واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ جب بازار سے گزر رہے تھے تو لوگ چھتوں پر کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ مرزا دوڑ گیا۔مرزا دوڑ گیا۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔شاید کسی جلسہ میں تقریر میں فساد ہو اتھا تو وہاں سے واپس آرہے تھے۔بہر حال کہتے ہیں اسی اثنا میں میں نے ایک بڑھے کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور تازہ تازہ ہلدی لگی ہوئی تھی۔لگتا تھا کہ ہاتھ کو کٹے بھی ابھی کچھ تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ بڑھا بھی اپنا تندرست ہاتھ کٹے ہوئے ہاتھ پہ مارتا جاتا تھا اور پنجابی میں کہہ رہا تھا کہ مرزانٹھ گیا۔مرزانٹھ گیا۔کہتے ہیں میں اس وقت اپنی عمر کے لحاظ سے حیران ہو تا تھا کہ آخر یہ کیوں کہتا ہے کہ مرزانٹھ گیا۔ایسا کیا واقعہ ہو گیا ہے ؟ مجھے تو کوئی ایسی بات سمجھ نہیں آئی۔پھر صرف اس لیے کہ مخالفت تھی اور مولویوں نے لوگوں کو بھڑ کایا ہوا تھا اور جو ان کے دل میں آتی تھی وہ کہتے رہتے تھے چاہے بات کا پتہ ہو یا نہ پتہ ہو۔بس بات کرنی تھی کر دی۔اسی طرح ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ لاہور شہر میں جا رہے تھے تو پیچھے سے کسی نے حملہ کیا اور آپ گر گئے۔بعض روایات میں آتا ہے کہ ٹھوکر لگی لیکن گرے نہیں تھے۔(ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حصہ سوم از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ 425) اسی طرح لوگوں کو پتھراؤ کرتے بھی حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ہم نے دیکھا۔پتھراؤ بھی کرتے تھے۔غرض ان دنوں میں مخالفت بڑے زوروں پر تھی اور قدرتی طور پر جماعت کے بعض دوستوں کو بھی غصہ آجاتا تھا کہ آخر یہ لوگ بلا وجہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا گو کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق یہ الہام اور کسی روایت میں تو نہیں ملا لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے یہی فرمایا ہے کہ یہ الہام تھا۔