خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 290
خطبات مسرور جلد 19 20 20 290 نه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14 مئی 2021ء بمطابق 14 ہجرت 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گذشتہ دنوں ایک مولوی صاحب سوشل میڈیا پر فرمارہے تھے کہ دنیا میں کہیں بھی فساد اور لڑائی ہو رہی ہے اس کی وجہ قادیانی ہیں بلکہ فلسطین کے فساد کی بھی وہ ذمہ داری قادیانیوں پہ ، احمدیوں پر ڈال رہے تھے۔اور پھر آگے جس طرح ان لوگوں کا طریقہ کار ہے، جس طرح عام طور پر کہا کرتے ہیں کہ اس لیے احمدیوں کے ساتھ یہ سلوک کرو، وہ سلوک کرو اور ان کو قتل کرنا، ان کو مارنا ہر چیز جائز ہے۔بہر حال یہ ان کا طریقہ ہے یہ ان کی باتیں ہیں اور جب سے احمدیت کی ابتدا ہوئی ہے یہی باتیں یہ لوگ کرتے رہے ہیں جو ائمۃ الکفر کہلاتے ہیں۔لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اس مسیح و مہدی کے ماننے والے ہیں جس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ان کی یہ خرافات سن کر، دل آزاری والی باتیں سن کر اور نہ صرف یہ باتیں بلکہ ان کی عملی کوششیں بھی دیکھ کر ، ان کا بھی سامنا کر کے صبر اور دعا سے تم نے کام لینا ہے۔یہ ائمۃ الکفر ہیں جنہوں نے معصوم مسلمانوں کو جماعت احمدیہ کے بارے میں غلط باتیں پھیلا کر بھڑ کا یا ہوا ہے۔عوام الناس تو شاید کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ واقعہ میں احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ توہین کے مر تکب ہو رہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ یہ سلوک ضرور ہونا چاہیے، جو مولوی کہتا ہے وہ سچ کہتا ہے۔یہ تو عوام الناس کی، عامۃ المسلمین کی حالت ہے لیکن جو علم رکھنے والے مولوی ہیں اور حقیقت میں علم رکھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے اور صرف یہ لوگ فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کے منبر سلامت رہیں اور ان کو کوئی ان کی جگہ سے نہ ہلائے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ہمارا کام تو جیسا کہ میں نے کہا دعا کرنا ہے اور جیسا کہ میں نے عید کے خطبہ میں بھی کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دشمن کے لیے بھی دعا کرو۔ہم تو دعا کرنے والے ہیں: (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 96) ہم تو دعا کرنے والے ہیں اور دعا کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔یہ مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے شروع ہے۔آپ پر بھی حملے کیے جاتے تھے۔آپ کی باتیں سننے کے لیے آنے والوں پر بھی حملے کیے جاتے تھے۔بعض لوگ جو ویسے ہی جلسوں میں آجاتے ہیں کہ دیکھیں کہتے کیا ہیں۔