خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد 19 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء باقی ان شاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔رمضان کا آخری جمعہ اور ہماری ذمہ داریاں: اس وقت مختصر آ میں اس طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ آج رمضان کا آخری جمعہ ہے۔اس کو صرف رمضان کے آخری جمعہ کے طور پر نہ لیں بلکہ یہ جمعہ ہمارے لیے آئندہ کے لیے نئی راہیں متعین کرنے والا ہونا چاہیے۔رمضان میں جن باتوں کی طرف توجہ ہوئی ہے اور جو نیکیاں کرنے کی توفیق ملی ہے انہیں رمضان کے بعد بھی ہمیں جاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ اس میں ترقی کرنی چاہیے ورنہ رمضان میں سے گزرنا ہمارے لیے بے فائدہ ہے اگر ہم ان نیکیوں اور پاکیزہ تبدیلیوں کو قائم نہیں رکھتے اور اس میں ترقی نہیں کرتے۔گذشتہ جمعہ کو میں نے درود اور استغفار کی طرف توجہ دلائی تھی وہ صرف رمضان تک ہی محدود نہ رہے کہ رمضان گزرا اور ہم دنیاوی کاموں میں اس طرح غرق ہو جائیں کہ دعاؤں اور استغفار کو بھول ہی جائیں۔اس طرف بھی میں نے خاص طور پر کہا تھا کہ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔فی زمانہ جب دجالی چالیں نئے نئے حربے استعمال کر رہی ہیں۔دنیا کی چکا چوند نے اکثریت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ہمارے نوجوان اور بچے بھی بعض اوقات اس کے زیر اثر آجاتے ہیں۔ایسے میں ہمیں اپنے لیے بھی بہت دعاؤں کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان شیطانی حملوں سے دجالی حملوں سے بچا کے رکھے۔اور اپنے بچوں کو اپنے ساتھ چمٹا کر اپنے ساتھ لگا کر ایک ان کا خاص تعلق اپنے ساتھ پیدا کر کے انہیں خدا تعالیٰ کی ہستی اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بھی بتانے کی ضرورت ہے اور پھر مکمل یقین کروا کر ، بچوں کے دلوں میں مکمل یقین پیدا کروا کر پھر انہیں خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا چمٹائیں کہ ان کا کوئی فعل، کوئی عمل، کوئی کام، ان کی کوئی سوچ خدا تعالیٰ کی رضا کے خلاف نہ ہو، اس کی تعلیم کے خلاف نہ ہو۔ہر دنیاوی سوچ اور فتنہ کا ان کے پاس جواب ہو، یہ نہیں کہ بعض چیزوں کے جواب نہیں آتے اور دوسروں سے وہ متاثر ہو جائیں، اور اس جواب کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے والے بن سکیں۔اور یہی ہماری نسلوں کی زندگیوں کو سنوارنے اور ان کی بقا کی ضمانت ہے اور ہر قسم کے فتنوں سے اپنی نسل کو بچانے کا یہی صحیح طریق ہے لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم خود بھی ایمان اور یقین میں اپنے اعلیٰ معیار حاصل نہیں کرتے، اس معیار تک نہیں پہنچتے جو ایک مومن کا خاصہ ہونا چاہیے۔یہ اس وقت ممکن ہو گا جب ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے مضبوط ہو گا۔ہماری نمازیں، ہماری عبادتیں معیاری ہوں گی۔ہم اپنی اس ذمہ داری کو سمجھنے والے ہوں گے کہ ہم نے کیوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے، اپنے اعمال پر مستقل نظر رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کو بچانے کا ذریعہ بنیں۔بے حیائی اور لغویات کی انتہا جتنی آج کل ہے شاید ہی پہلے کبھی ہو۔ہر گھر میں ٹی وی کے ذریعہ سے انٹرنیٹ کے ذریعہ سے یہ چیز پہنچی ہوئی ہے۔پہلے تو باہر جا کے خطرہ ہوتا