خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد 19 286 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عویم بن ساعدہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کی مؤاخات حضرت عتبان بن مالک کے ساتھ قائم فرمائی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق حضرت عمر کی مواخات حضرت معاذ بن عفراء سے قائم فرمائی تھی۔(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد جلد3 صفحه 363 فی مواخاتم الله بین اصحابه رضی الله عنهم مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 206 دارالکتب العلمية بيروت 2012ء) رض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کی مؤاخات حضرت عتبان بن مالک سے ہوئی تھی۔اذان کی ابتداء اور حضرت عمر: (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحه (277) اذان کی ابتدا کے بارے میں ایک روایت یوں ملتی ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو خواب سنائی۔یہ حضرت عبد اللہ کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے تو یہاں بھی حضرت عمر کا کیونکہ ذکر ہے اس لیے کچھ تھوڑا سا حصہ بیان کر دیتا ہوں یا دوسری روایات میں دیکھ کے کر دیتا ہوں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا یہ رویا سچی ہے جو خواب بیان کی۔تم بلال کے ساتھ جاؤ کیونکہ وہ تمہاری نسبت زیادہ بلند آواز والے اور منادی کرنے والے ہیں۔ان کو بتاتے جاؤ جو تمہیں بتایا گیا ہے۔پس وہ اس کی منادی کرے۔وہ یعنی حضرت عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے نماز کے لیے حضرت بلال کی آواز سنی تو حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ یار سول اللہ ! اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یقیناً میں نے بھی وہی دیکھا ہے جیسا کہ اس نے اذان میں کہا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔یہ بات زیادہ پختہ ہے۔(سنن الترمذى كتاب الصلوة باب ما جاء فى بدء الاذان حديث 189) حضرت مصلح موعودؓ اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت عبد اللہ بن زید ایک صحابی تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو رؤیا کے ذریعہ سے اذان سکھائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کی رؤیا پر انحصار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اذان کا رواج ڈالا۔بعد میں قرآنی وحی نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہی اذان سکھائی تھی مگر ہیں دن تک میں خاموش رہا۔اس خیال سے کہ ایک اور شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کر چکا ہے۔کیونکہ یہ پہلے بیان ہو چکی تھی اس لیے میں خاموش رہا کہ بیان کی ضرورت نہیں۔" اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے کہ الْمُؤْمِنُ یرای او يُرى له یعنی مومن کو کبھی تو براہ راست خبر دی جاتی ہے کبھی دوسروں کی معرفت اسے خبر پہنچائی جاتی ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 624-625)