خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد 19 288 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء تھا اب تو گھروں کے اندر خطرہ ہے۔چھپ کے بچے بیٹھ کے دیکھ رہے ہیں۔پتہ ہی نہیں لگتا کیا کچھ دیکھ رہے ہیں۔پس بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔جو بزرگوں کی یا ابتدائی احمدیوں کی یا ان احمدیوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے خود بیعت کر کے سلسلہ میں شمولیت اختیار کی ہے، زمانہ کے امام کو مانا ہے اور اپنے ایمانوں کو بچانے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہے اور کرتے رہے۔قربانی دی۔انہیں ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ ہم بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھیں گے تبھی ہم اپنے آپ کو بھی بچاسکتے ہیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچا سکتے ہیں۔کوئی خاندان چاہے وہ بزرگوں کا خاندان ہو یا کسی بزرگ کی جو اولاد ہے اُسے اس کا خاندان اور بزرگی یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ ضرور اللہ تعالیٰ انہیں نواز تارہے گا یا ان سے راضی رہے گا۔ہر شخص کا عمل بہر حال اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔اپنے عمل ہی ہیں جو ہمیں بچائیں گے۔کسی کی رشتہ داری، کسی کا خاندان کسی کو نہیں بچا سکتا۔اس لیے اس کے لیے ہمیشہ بہت دعا بھی کرنی چاہیے۔اپنی دینی کمزوریوں پر نظر بھی رکھنی چاہیے۔اپنے بچوں اور نسلوں کی دنیا سے زیادہ دین میں ترقی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔دنیاوی ترقی کے لیے ہم بہت دعائیں کرتے ہیں دین کی ترقی کے لیے اس سے زیادہ دعا کرنی چاہیے۔اسی طرح جو خود احمدی ہوئے ہیں انہیں بھی اپنی سوچوں کو ، اپنے عمل کو اس نہج پر چلانا ہو گا تبھی ہماری بھی بقا ہے اور ہماری نسلوں کی بھی بقا ہے۔پس رمضان کے ان بقیہ ایام میں اس کے لیے بھی بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ہماری نسلوں کے دین کو سلامت رکھے اور ہماری روحانی ترقی ہو۔رمضان کے بعد بھی ہماری عبادتوں کے معیار اونچے سے اونچے ہوتے رہیں۔ہمارا خد اتعالیٰ سے پختہ تعلق قائم ہو۔ہم دجال کی چالوں میں آنے سے محفوظ رہیں۔صرف دنیاوی آسائشیں ہمارا مقصود نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دینی اور دنیاوی نعماء سے نوازے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بناتے ہوئے ہمیشہ اس کے آگے جھکنے والا بنائے رکھیں ہمیشہ اس کا کامل عابد بنائے رکھیں۔اسی طرح اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج کل جو کو رونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس سے بچنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لیے بھی خاص طور پر بہت دعائیں کریں۔اسی طرح خاص طور پر جن ممالک میں احمدیت کی مخالفت زوروں پر ہے اور زندگیاں ان کے لیے اجیرن کی ہوئی ہیں ان کے لیے بھی بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔پاکستان کے احمدی جو ہیں ان کو تو خاص طور پر صدقہ اور خیرات اور دعاؤں پر ، ان دنوں میں بھی اور بعد میں بھی ہمیشہ بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ان شاء اللہ تعالیٰ یہ دعائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی یہ جو کوششیں ہیں دشمن کے ہر حیلے اور حربے کو ناکام و نامراد کر دیں گی۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِيْ