خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد 19 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء ہو سکتا ہے کہ کسی وقت کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا ہو اور اس وقت ہجرت نہ کی ہو۔کعبہ میں کھڑے ہو کر سر داروں کے سامنے جو اعلان کیا تھا کہ میں جارہا ہوں مجھے روک لینا لیکن ہجرت نہ کی ہو اور جب ہجرت کا پروگرام بنا تو خاموشی سے ہجرت کی۔بہر حال ہیکل کی یہ بات اپنے اندر وزن رکھتی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ طبقات ابن سعد اور ابن ہشام بھی ایسا ہی لکھتے ہیں۔لگتا یہی ہے کہ حضرت عمر نے بھی دیگر مسلمانوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خاموشی سے ہجرت کی ہوگی کیونکہ مکہ میں جیسے حالات تھے ان کے پیش نظر کھلم کھلا ایسا کرنا ممکن نہیں تھا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح مکہ تک جس نے بھی ہجرت کی اس نے خاموشی سے ہجرت کرنے میں ہی عافیت جانی۔بہر حال اگر حضرت علی کی اس روایت کو صحیح بھی مانا جائے تو ہو سکتا ہے کہ انفرادی فعل ہو لیکن بظاہر شواہد یہی ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔(الفاروق عمر از محمد حسين هيكل جزء 1 صفحه 53-54 باب في صحبة النبى الله مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2007ء) حضرت براء بن عازبے بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے مہاجرین میں سے جو ہمارے پاس آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر تھے جو بنو عبد الدار میں سے تھے۔پھر حضرت ابن ام مکتوم آئے جو نا بینا تھے اور بنو فہر میں سے تھے۔پھر حضرت عمر بن خطاب میں لوگوں کے ساتھ سوار ہو کر آئے۔ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرے پیچھے ہی ہیں یعنی کچھ عرصہ بعد آجائیں گے۔پھر کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ابو بکر آپ کے ساتھ تھے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 4 صفحه 145 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2003ء) اگر یہ روایت صحیح ہے تو پھر زیادہ قوی امکان یہی ہے کہ حضرت عمرؓ نے کسی وقت مجلس میں ہجرت کا ذکر کر دیا ہو اور جوش میں کہہ دیا ہو کہ مجھے روک کر دکھانا لیکن ہجرت خاموشی سے ہی کی ہے کیونکہ یہ روایت بھی آتی ہے کہ میں لوگ آپ کے ساتھ تھے۔بہر حال واللہ اعلم۔حضرت عمر مدینہ پہنچ کر قبا میں رفاعہ بن عبدالمنذر کے مہمان ہوئے۔(سیر الصحابه جلد 1 صفحہ 93 مکتبہ دار الاشاعت اردو بازار کراچی 2004ء) قبا جیسا کہ ہم جانتے ہیں مدینے سے تین میل کے فاصلے پر اس کی بالائی آبادی ہے اور یہاں انصار کے کچھ خاندان آباد تھے۔ان سب میں ممتاز عمرو بن عوف کا خاندان تھا۔اس خاندان کے سردار کلثوم بن ہڈم تھے۔قبا پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کے مکان پر قیام فرمایا تھا۔(فرہنگ سیرت صفحہ 230) حضرت عمر کی مواخات: حضرت عمر کی مواخات کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر صدیق کے درمیان مواخات قائم فرمائی لیکن یہ مؤاخات بھی دو مواقع پر ہوئی تھی ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں۔مکہ میں جو مؤاخات قائم فرمائی تھی اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ حضرت علیؓ کو رکھا تھا اور حضرت ابو بکر کی حضرت عمرؓ کے ساتھ مؤاخات قائم فرمائی تھی۔بہر حال مؤاخات قائم ہونے کے یہ دونوں علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں۔مدینہ میں مہاجر اور