خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد 19 284 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء جو بعد کی سختیاں تھیں سختیاں تو وہی جاری رہی ہیں لیکن پہلی سختیوں کے مقابلے میں یہ لوگ ان سختیوں کو سختیاں نہیں سمجھتے تھے حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عمرؓ کو بھی سختیاں جھیلنی پڑیں۔حضرت عبد اللہ بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔آپ حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا: نہیں۔اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک میں تمہارے نفس سے زیادہ تمہیں محبوب نہ ہو جاؤں۔یہ بڑی ضروری چیز ہے۔حضرت عمرؓ نے آپ سے عرض کیا۔اللہ کی قسم ! اب آپ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اب ہے عمر ، اب ہے عمر (صحيح البخارى كتاب الايمان والنذور باب كيف كانت يمين النبی۔حدیث 6632) یعنی اب ٹھیک ہے۔یہ ہے ایمان کی حالت۔حضرت عمرؓ کا ہجرت کرنا: حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت عمرؓ کی مدینہ کی طرف ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مجھے علی بن ابو طالب نے بتایا کہ میں مہاجرین میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے چھپ کر ہجرت نہ کی ہو سوائے حضرت عمر بن خطاب کے۔جب آپ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ نے تلوار لٹکائی، کندھے پر اپنی کمان رکھی، تیر ہاتھ میں لیے اور نیزہ پکڑے ہوئے کعبہ کی طرف گئے۔سردارانِ قریش اس کے صحن میں تھے۔آپ نے وقار کے ساتھ کعبہ کے سات چکر لگائے۔پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے اور اطمینان سے نماز ادا کی۔پھر آپ ہر گروہ کے پاس ایک ایک کر کے کھڑے ہوئے اور ان سے کہا: چہرے بگڑ جائیں اللہ ناکوں کو خاک آلودہ کر دے۔جو چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے کھوئے اس کی اولاد یتیم ہو اور اس کی بیوی بیوہ ہو وہ اس وادی کے پار مجھے مل لے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا سوائے چند کمزور مسلمانوں کے کسی نے پیچھانہ کیا اور آپ نے انہیں معلومات فراہم کیں اور ان کی رہنمائی کی۔پھر اپنے رستے پر چل پڑے۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد نمبر 3 صفحه 649648 عمر بن الخطاب هجرته مطبوعه دارالفکر بیروت 2003ء) حضرت عمرؓ کی اس طرح کھل کے ہجرت کرنے کے بارے میں حضرت علی کی صرف یہی ایک روایت ہے جو بیان کی جاتی ہے لیکن کئی سیرت نگار اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔محمد حسین ہیکل نے حضرت عمرؓ کی سیرت و سوانح پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے۔اس نے اس بحث کو اٹھایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ خاموشی سے چپکے سے اور چھپ کر مکہ سے نکلیں تا کہ مخالفین کو علم نہ ہو مباداوہ روک پیدا کریں اور مزید تنگ کریں۔تو اس واضح حکم کے ہوتے ہوئے حضرت عمرہ کیسے اس کی نافرمانی کر سکتے تھے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ طبقات ابن سعد اور ابن ہشام میں وضاحت سے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے بھی دیگر مسلمانوں کی طرح چپکے سے ہجرت کی تھی۔بہر حال اگر حضرت علی کی روایت کو کسی طرح صحیح قرار دینا بھی ہے تو