خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد 19 283 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء حضرت عمر کے خوفزدہ ہونے والی یہ بات جو روایت میں آتی ہے وہ صحیح نہیں لگتی۔یہ تو حضرت عمرؓ کی طبیعت کے خلاف بات ہے۔ہو سکتا ہے کہ پریشانی کے آثار ہوں جسے راوی نے خوف سمجھا ہو جیسا کہ پہلے بھی ایک روایت میں آچکا ہے کہ کچھ عرصہ بعد حضرت عمرؓ نے یہ پناہ واپس بھی کر دی تھی اور اس کا ذکر آگے بھی ملے گا۔حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کی روایات کی تشریح میں عاص بن وائل سھی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے چند لوگ جو ایمان لائے تھے ان پر سختی کیے جانے کا بھی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت عمر بھی مسلمان ہونے پر سختی کا نشانہ بنتے اگر عاص بن وائل سہمی انہیں اپنی پناہ میں لینے کا اعلان نہ کرتا۔عاص بن وائل قریش کے معزز ترین اشخاص میں سے تھا اور بنو سہم قبیلہ میں سے تھا۔اس کا نسب نامہ یہ ہے۔عاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم۔ہجرت سے قبل بحالت کفر ہی فوت ہو گیا تھا اور حضرت عمر بنو عدی خاندان میں سے تھے اور بنو عدی اور بنو سہم کے خاندان ایک دوسرے کے حلیف تھے اور اس معاہدہ اور دوستی اور مدد کی وجہ سے عاص بن وائل نے اپنا اخلاقی فرض جانا کہ حضرت عمررؓ کی مدد کریں۔(ماخوذ از صحیح البخاری (مترجم) کتاب مناقب الانصار باب اسلام عمر بن الخطاب جلد 7 صفحہ 346-347) حضرت عمرؓ کا اپنی پناہ کو واپس کر دینا: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ حضرت عمرؓ نے عاص بن وائل کی پناہ کو ایک وقت میں رڈ کر دیا تھا۔چنانچہ اس بارے میں حضرت عمر خود ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی مسلمان کو مار پڑتے ہوئے دیکھتار ہوں اور مجھے نہ مارا جائے۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا یہ تو کوئی بات نہیں۔یہاں تک کہ مجھے بھی وہی تکلیف پہنچے جو دوسرے مسلمانوں کو پہنچ رہی ہے۔آپ کہتے ہیں میں اس وقت تک رکا رہا یہاں تک کہ وہ لوگ کعبہ میں اکٹھے ہوئے۔میں اپنے ماموں عاص بن وائل کے پاس گیا۔میں نے کہا میری بات سنیں اس نے کہا میں کیا بات سنوں۔آپ کہتے ہیں میں نے کہا کہ آپ کی پناہ آپ کو واپس لوٹاتا ہوں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس نے کہا کہ اے میرے بھانجے ایسانہ کر۔میں نے کہا: بس ایسا ہی ہے۔اس نے کہا: جیسے تمہاری مرضی۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پناہ واپس لوٹادی تو اس کے بعد بس میں مار کھاتا اور مارتاہی رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا کی۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 141 عمر بن الخطاب دار الكتب العلمية 2003ء) محمد بن عبید بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ہم بیت اللہ میں نماز ادا نہیں کر سکتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا۔جب حضرت عمر اسلام لے آئے تو آپ نے ان کفار سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور ہم نماز ادا کرنے لگے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 143 اسلام عمر مطبوعه داراحياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے ہم عزت سے ہی رہے۔(صحيح البخارى كتاب فضائل اصحاب النبى باب حضرت عمر حدیث 3684)