خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد 19 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء میں تمہارے گھر کے پڑوسی اور تمہارے محل میں تمہارے ساتھی ہوں گے اور جو لوگ تم سے بغض رکھتے ہیں اور تم پر جھوٹ باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمہ لے رکھی ہے کہ قیامت کے دن وہ انہیں سخت جھوٹوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پر کھڑا کرے گا۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه لابن اثير جلد 04 صفحه 96-97 ذكر على بن ابی طالب، دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت میں جس درجہ میں میں ہوں گا اس میں علی اور فاطمہ ہوں گے۔" ( برکات خلافت ، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 254) حضرت علی کے عشرہ مبشرہ میں ہونے کے بارے میں ذکر ہے کہ حضرت علی عشرہ مبشرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی دنیا میں جنت کی خوشخبری ملی۔حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی یہی کہوں یعنی گواہی دوں تو گناہگار نہیں ہوں گا۔کہا گیا کہ وہ کیسے تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ ملنے لگا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر اے حرا یقینا تجھ پر ایک نبی یا صدیق یا شہید ہے۔کسی نے پوچھا وہ دس جنتی لوگ کون ہیں۔حضرت سعید بن زید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر ، سعد اور عبد الرحمن بن عوف ہیں اور کہا گیا کہ دسواں کون ہے ؟ تو حضرت سعید بن زید نے کہا: وہ میں ( ہوں)۔(سنن الترمذى ابواب المناقب باب مناقب ابى الاعور واسمه سعيد بن زيد۔۔۔۔۔۔الخ حديث 3757) یہ واقعہ جو بیان کرنے لگا ہوں یہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے لیکن نفس پر قابو رکھنے اور انانیت کو دور کرنے کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے اس لیے میں یہاں دوبارہ یہ بیان کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " کہتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ ایک دشمن سے لڑتے تھے اور محض خدا کے لیے لڑتے تھے۔آخر حضرت علی نے اس کو اپنے نیچے گر الیا اور اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔اس نے جھٹ حضرت علی کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اس کی چھاتی پر سے اتر آئے اور اسے چھوڑ دیا۔اس لئے کہ اب تک تو میں محض خدا تعالیٰ کے لئے تیرے ساتھ لڑتا تھا لیکن اب جبکہ تُو نے میرے منہ پر تھوک دیا ہے تو میرے اپنے نفس کا بھی کچھ حصہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔پس میں نہیں چاہتا کہ اپنے نفس کے لئے تمہیں قتل کروں۔اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے اپنے نفس کے دشمن کو دشمن نہیں سمجھا۔ایسی فطرت اور عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔" آپ جماعت کو نصیحت فرماتے ہیں۔" اگر نفسانی لالچ اور اغراض کے لئے کسی کو دکھ دیتے اور