خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد 19 282 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کے یہ اعلان کیا کہ اے قریش کے گروہ! اور وہ لوگ کعبہ کے گرد اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس کی طرف متوجہ ہوئے۔اس نے کہا کہ سن لو عمر بن خطاب صابی ہو گیا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمررؓ اس کے پیچھے سے یہ کہہ رہے تھے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔میں نے تو اسلام قبول کیا ہے۔صابی نہیں ہوا بلکہ میں نے اسلام قبول کیا ہے اور اس بات کی گواہی دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔پھر قریش آپ پر جھپٹے۔آپ ان سے اور وہ آپ سے برابر لڑتے رہے یعنی پھر لڑائی ہوتی رہی یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر آگیا۔راوی نے کہا کہ آپ تھک گئے یعنی حضرت عمر تھک گئے تو بیٹھ گئے اور لوگ آپ کے سر پر کھڑے ہو گئے۔آپ کہہ رہے تھے تم جو چاہو کرو میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم تین سو مر د ہو گئے تو ہم اسے یعنی مکہ کو تمہارے لیے چھوڑ دیں گے یا تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دو گے۔یعنی پھر ہم آزادی سے ہر چیز کریں گے۔راوی نے کہا کہ وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ قریش میں سے ایک بوڑھا شخص آیا جو یمنی کپڑے کا نیا لباس اور نقش و نگار والی قمیص پہنے ہوئے تھا یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عمر صابی ہو گیا ہے۔اس نے کہا کہ پھر کیا ہوا۔ایک شخص نے اپنے لیے ایک بات اختیار کرلی ہے۔پھر تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ بنو عدی بن کعب اپنے آدمی کو اس طرح تمہارے حوالے کر دیں گے۔اس شخص کو چھوڑ دو۔راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم پھر وہ لوگ آپ سے یکدفعہ الگ ہو گئے۔حضرت عمرؓ کے بیٹے ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے یعنی حضرت عمرؓ سے پوچھا جبکہ انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کر لی تھی۔بہت عرصہ بعد مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ان سے پوچھا کہ اے میرے باپ !وہ شخص کون تھا جس نے مکہ میں آپ کے اسلام قبول کرنے کے دن لوگوں کو جھڑک کر آپ سے دُور کر دیا تھا جبکہ وہ آپ سے لڑ رہے تھے۔فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے ! وہ عاص بن وائل سھی تھا۔(سیرت ابن هشام صفحه 161-162 ذكر اسلام عمر بن خطاب دار ابن حزم بيروت 2009ء) بخاری میں ایک روایت یہ بھی بیان ہوئی ہے۔حضرت ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت عمرؓ اپنے گھر میں خوفزدہ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ابو عمرو عاص بن وائل سھی آیا اور وہ ایک نقش دار چادر اور ایک ریشمی حاشیہ دار قمیص پہنے ہوئے تھا اور وہ بنو سہم قبیلہ میں سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارا حلیف تھا۔عاص نے حضرت عمرؓ سے کہا تمہارا یہ کیا حال ہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا تمہاری قوم یہ خیال کرتی ہے کہ میں مسلمان ہو گیا تو مجھے مار ڈالیں گے۔انہوں نے کہا کہ تم تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔جب عاص نے یہ بات کہی تو میں مطمئن ہو گیا۔عاص چلا گیا اور لوگوں سے ملا۔یہ حالت تھی کہ وادی مکہ ان لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔عاص نے پوچھا کہاں کا قصد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطاب کے بیٹے کی طرف جارہے ہیں جو بے دین ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا: اس کے پاس نہیں جانا۔یہ سن کر لوگ واپس آگئے۔(صحيح البخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام عمر بن الخطاب رضی الله عنه حديث 3864)