خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 281
خطبات مسرور جلد 19 281 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء اے اللہ ! اس کے سینے میں جو کچھ بھی بغض ہے اس کو دور کر دے اور اس کو ایمان سے بدل دے۔آپ نے یہ دعا تین دفعہ فرمائی۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء 3 صفحه 237 باب عمر بن الخطاب دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) جیسا کہ ہم حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے پہلے کی زندگی میں دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عمرؓ اسلام لانے ، پہلے مسلمانوں کے سخت خلاف تھے لیکن جب آپ اسلام لائے تو آپ کا اسلام قبول کرنا مسلمانوں کے لیے فتح اور تنگی سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس وقت تک کھل کر اللہ کی عبادت نہیں کی جب تک کہ حضرت عمر ایمان نہ لے آئے۔(الاصابة في تمييز الصحابة الجزء 4 صفحه 484 ذكر عمر بن الخطاب دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) حضرت عمرؓ کا اسلام قبول کرنے کا اعلان عام کرنا: عبد الرحمن بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جس رات میں نے اسلام اختیار کیا تو میں نے سوچا کہ اہل مکہ میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں سب سے زیادہ کون بڑھا ہوا ہے کہ میں اس کے پاس جاؤں اور اس کو بتاؤں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے سوچاوہ ابو جہل ہی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ جب صبح ہوئی تو میں اس کے پاس گیا اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔آپ کہتے ہیں کہ ابو جہل میرے پاس آیا اور کہا: اے میرے بھانجے خوش آمدید۔حضرت عمرؓ کو اس نے کہا کہ میرے بھانجے خوش آمدید۔تم کس لیے آئے ہو ؟ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں تمہیں بتانے آیا ہوں کہ میں اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور میں نے اس کی تصدیق کی ہے جو وہ لایا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس نے دروازہ مجھ پر بند کر دیا اور کہا کہ اللہ تجھ کو اور اس چیز کو جو تو لایا ہے برباد کرے۔(سیرت ابن هشام صفحه 162 ذکر اسلام عمر بن خطاب دار ابن حزم بيروت 2009ء) یہ ابو جہل کے الفاظ تھے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ قریش میں سب سے زیادہ باتیں پھیلانے کی عادت کس شخص کو ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ جمیل بن مَعْبَرُ جنجی۔حضرت ابنِ عمر" کہتے ہیں کہ آپ صبح صبح اس کے پاس چلے گئے اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا اور میں دیکھ رہا تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں اور میں کم عمر تو تھا لیکن جو کچھ دیکھتا تھا اس کو سمجھتا تھا۔یہ ابن عمرؓ کہہ رہے ہیں۔یہاں تک کہ جب آپ اس کے پاس پہنچے تو اس سے کہا کہ اے جمیل !کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہو چکا ہوں۔حضرت ابن عمر" کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! آپ نے اس بات کو دہرایا نہیں تھا یعنی دوسری دفعہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے نکل پڑا اور حضرت عمررؓ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے والد کے پیچھے ہو لیا یہاں تک کہ جب وہ یعنی وہ شخص جمیل خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے پھر چیخا کہ اے قریش کے گروہ ! اس