خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد 19 280 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء کے لیے جانا آپ لوگوں نے سنا ہو گا۔ابو جہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالت مآب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام و اکرام کا مستحق ہو گا۔حضرت عمرؓ نے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ابو جہل سے معاہدہ کیا اور قتل حضرت کے لیے آمادہ ہو گیا۔اس کو کسی عمدہ وقت کی تلاش تھی۔دریافت پر اسے معلوم ہوا کہ حضرت نصف شب کے وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سر شام خانہ کعبہ میں جا چھپے۔آدھی رات کے وقت جنگل میں سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کی آواز آناشروع ہوئی۔حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گریں تو اس وقت قتل کروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کے ساتھ مناجات شروع کی اور سجدہ میں اس طرح حمد الہی کا ذکر کیا کہ حضرت عمرؓ کا دل پسیج گیا۔اس کی ساری جرآت جاتی رہی اور اس کا قاتلانہ ہاتھ سست ہو گیا۔" یہاں اس میں حضرت عمر کی نرمی کو آپ نے اس طرح بیان کیا ہے۔" نماز ختم کر کے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر کو چلے تو ان کے پیچھے حضرت عمر ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آہٹ پاکر دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ اے عمرہ کیا تو میرا پیچھا نہ چھوڑے گا۔حضرت عمر بد دعا کے ڈر سے بول اٹھے کہ حضرت میں نے آپ کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔میرے حق میں بد دعانہ کیجئے گا۔چنانچہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلی رات تھی جب مجھ میں اسلام کی محبت پید اہوئی۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 61) یہ بتانے کے لیے اب میں نے تین مختلف حوالے پڑھے ہیں۔ایک جنوری 1901ءکا ہے، ایک اگست 1902ء کا، ایک جون 1904ء کا ہے یا شاید 1907ء کا ہے۔بہر حال ان تینوں جگہوں پر رات کو خانہ کعبہ میں حملے کا ذکر آپ نے فرمایا ہے۔شاید اس کے بعد پھر نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر دن کو بھی نکلے ہوں گے اور وہ بہن بھائی والا واقعہ پیش آیا جس کو عام بیان کیا جاتا ہے لیکن بہر حال آپ نے تینوں دفعہ یہی فرمایا اور یہ ہوا کیونکہ نفس امارہ کا بھی آپ نے ذکر کیا۔ہو سکتا ہے پھر ایک جوش آیا ہو اور اس وقت نکلے ہوں اور دونوں واقعات میں یہ ذکر تو بہر حال ہے چاہے وہ بہن والا واقعہ ، بہن بہنوئی والا یا یہ رات کو قتل والا کہ ابو جہل کے بھڑ کانے اور انعام مقرر کرنے پہ آپ نے، حضرت عمرؓ نے یہ ارادہ کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " ابو جہل کو فرعون کہا گیا ہے مگر میرے نزدیک وہ تو فرعون سے بڑھ کر ہے فرعون نے تو آخر کہا: آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا اسْتَرَاء يُل (يونس: 91) مگر یہ آخر تک ایمان نہ لایا مکہ میں سارا فساد اسی کا تھا اور بڑا متکبر اور خود پسند، عظمت اور شرف کو چاہنے والا تھا اس کا اصل نام بھی عمر و تھا اور یہ دونوں عمر مکہ میں تھے۔خدا کی حکمت کہ ایک عمر کو کھینچ لیا اور ایک بے نصیب رہا۔اس کی روح تو دوزخ میں جلتی ہو گی اور حضرت عمرؓ نے ضد چھوڑ دی تو بادشاہ ہو گئے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 247) حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کرتے ہوئے آپ کے سینے پر تین دفعہ ہاتھ مارا۔اللَّهُمَّ أَخْرِجْ مَا فِي صَدْرِهِ مِنْ غِلٌّ ، وَ أَبْدِلْهُ إِيْمَانًا۔