خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 279

خطبات مسرور جلد 19 279 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔میں نے آنحضرت صلی ملی یکم کی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچا ہے اور ضرور کامیاب ہو جائے گا مگر نفس امارہ برا ہوتا ہے۔بار بار ابھارتا ہے۔"جب آپ نماز پڑھ کر نکلے میں پیچھے پیچھے ہو لیا۔پاؤں کی آہٹ جو آپ کو معلوم ہوئی۔رات اندھیری تھی۔آنحضرت صلی علیہم نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا عمر۔آپ نے فرمایا اے عمرانہ تورات کو پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ دن کو۔اس وقت مجھے رسول اللہ کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرت صلی علیہ کی بد دعا کریں گے۔میں نے عرض کیا: یا حضرت ابد دعانہ کریں۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ وہ وقت اور وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 180-181) یہ ایک روایت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور ایک اور جگہ دوسری بھی اسی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک وقفہ کے بعد آپ نے بیان فرمائی ہے۔وہ بھی یہی باتیں ہیں لیکن اس میں آخر میں ایک دو الفاظ ذرا مزید مختلف نتیجہ نکالے ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں کہ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابو جہل کے ساتھ اسلام سے پہلے ملتے تھے۔بلکہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے منصوبہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاوے اور کچھ روپیہ بھی بطور انعام مقرر کیا۔حضرت عمر اس کام کے لیے منتخب ہوئے۔چنانچہ انہوں نے اپنی تلوار کو تیز کیا اور موقع کی تلاش میں رہے۔آخر حضرت عمر کو پتہ ملا کہ آدھی رات کو آپ کعبہ میں آکر نماز پڑھتے ہیں۔چنانچہ یہ کعبہ میں آکر چھپ رہے اور انہوں نے سنا کہ جنگل کی طرف سے لا الهَ إِلَّا اللہ کی آواز آتی ہے اور وہ آواز قریب آتی گئی۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں آداخل ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ نے سجدہ میں اس قدر مناجات کی کہ مجھے تلوار چلانے کی جرات نہ رہی۔چنانچہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ آگے چلے۔پیچھے پیچھے میں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاؤں کی آہٹ معلوم ہوئی اور آپ نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ عمر۔اس پر آپ نے فرمایا۔اے عمر انہ تو دن کو میرا پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ رات کو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ آپ بد دعا کریں گے۔اس لیے میں نے کہا کہ حضرت آج کے بعد میں آپ کو ایذا نہ دوں گا۔عربوں میں چونکہ وعدہ کا لحاظ بہت بڑا ہو تا تھا۔اس لیے آنحضرت نے یقین کر لیا مگر دراصل حضرت عمر کا وقت آپہنچا تھا۔" یہ باتیں پچھلے حوالے سے ذرانئی ہیں۔" آنحضرت کے دل میں گذرا کہ اس کو خد ا ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ آخر حضرت عمر مسلمان ہوئے اور پھر وہ دوستیاں وہ تعلقات جو ابو جہل اور دوسرے مخالفوں سے تھے یکلخت ٹوٹ گئے اور ان کی جگہ ایک نئی اخوت قائم ہوئی۔حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ ملے اور پھر ان پہلے تعلقات کی طرف کبھی خیال تک نہ آیا۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 340) ایک جگہ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا وہی واقعہ اسی طرز پہ بیان کرتے ہوئے پھر آپ نے بیان فرمایا ہے۔ہلکے سے چند ایک الفاظ مختلف ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ " حضرت عمرؓ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل