خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 278
خطبات مسرور جلد 19 278 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ " دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے کتنے شدید دشمن تھے مگر پھر ان میں کیسی تبدیلی پیدا ہوئی۔نہ صرف ان کی اصلاح ہوئی بلکہ وہ روحانیت کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے کہ ان کا پہچاننا بھی مشکل ہو گیا۔" یعنی بالکل کا یا پلٹ گئی۔پہچانے نہیں جاتے تھے کہ یہ وہی لوگ ہیں۔" حضرت عمرؓ جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لٹھ لئے پھرتے تھے جب انہیں اسلام لانا نصیب ہو ا تو ان میں ایسی تبدیلی پیدا ہوئی کہ دنیا کے فائدہ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے لگے اور دن رات اسلام کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔" (تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 45) یہاں " جان جوکھوں میں ڈالنے لگے " دین کے فائدہ کے لیے ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عمر کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس طرح فرماتے ہیں: " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا ستر تھا۔ابو جہل نے تلاش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔اس وقت حضرت عمررؓ بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے اور شوکت رکھتے تھے۔انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمرؓ اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔"فرماتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لئے جاتے ہیں دوسرے وقت وہی عمر اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔وہ کیا عجیب زمانہ تھا۔غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔اس تحریر کے بعد آپ کی تلاش اور تجس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے۔"یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں حضرت عمرؓ تجسس میں لگے رہتے تھے ، راتوں کو پھرتے تھے " کہ کہیں تنہا مل جاویں تو قتل کر دوں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔"لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے ہیں۔حضرت عمر یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے۔چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لا الهَ اِلَّا اللہ کی آواز آتی ہوئی معلوم ہوئی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی آواز تھی۔اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے کہ وہ ادھر ہی کو آرہی ہے۔حضرت عمرؓ اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے تو تلوار مار کر سر مبارک تن سے جدا کر دوں گا۔آپ نے آتے ہی نماز شروع کر دی۔پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمر بیان کرتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ " اس سے آگے کے واقعات حضرت عمرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعائیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی ا ہم نے یہ بھی کہا کہ سَجَدَ لَكَ رُوْحِی وَجَنَانِی۔یعنی اے میرے مولیٰ ! میری روح اور میرے دل نے بھی تجھے سجدہ کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کو سن سن کر جگر پاش پاش ہو تا تھا۔