خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 277

خطبات مسرور جلد 19 277 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے۔اس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا۔یارسول اللہ ! خد اتعالیٰ کار سول اور اس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے سے کون روکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جذبہ تو بہت اچھا ہے لیکن ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمارا باہر نکلنا مناسب نہیں۔" ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 141 تا143) خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنا: لیکن اس کے بعد پھر خانہ کعبہ میں نماز بھی ادا کی گئی جیسا کہ پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اس کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا ہے کہ " ابتدائے زمانہ اسلام میں صرف دو شخص مسلمانوں میں بہادر سمجھے جاتے تھے۔ایک حضرت عمرؓ اور دوسرے امیر حمزہ۔جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہم گھروں میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کریں۔جب کعبہ پر ہمارا بھی حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اس حق کو حاصل نہ کریں اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کفار کو فساد کے جرم سے بچانے کے لئے گھر میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کے ایک طرف حضرت عمرہ تلوار کھینچ کر چلے جا رہے تھے اور دوسری طرف امیر حمزہ اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں علی الاعلان نماز ادا کی۔" (خطبات محمود جلد 23 صفحہ 10) حضرت عمر پر سختی: جب حضرت عمر کے اسلام کی خبر قریش میں پھیلی تو وہ سخت جوش میں آگئے اور اسی جوش کی حالت میں انہوں نے حضرت عمرؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عمر باہر نکلے تو ان کے ارد گر دلوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جو شیلے ان پر حملہ آور ہو جائیں لیکن حضرت عمر بھی نہایت دلیری کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے۔آخر اسی حالت میں مکہ کارئیس اعظم عاص بن وائل وہاں آگیا اور اس ہجوم کو دیکھ کر اس نے اپنے سردارانہ انداز میں آگے بڑھ کر پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا: عمر صابی ہو گیا ہے۔اس رئیس نے موقع شناسی سے کام لیتے ہوئے کہا: تو خیر ، پھر بھی اس ہنگامے کی ضرورت نہیں ہے۔میں عمر کو پناہ دیتاہوں۔اس آواز کے سامنے عربی دستور کے مطابق لوگوں کو خاموش ہونا پڑا اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔اس کے بعد حضرت عمر چند دن تک امن میں رہے کیونکہ عاص بن وائل کی پناہ کی وجہ سے کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا تھا لیکن اس حالت کو حضرت عمرؓ کی غیرت نے زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا۔چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ انہوں نے عاص بن وائل سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ سے نکلتا ہوں۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں بس پٹا اور پیٹتا ہی رہتا تھا۔یعنی لڑائی جھگڑا ہی رہتا تھا مگر حضرت عمرؓ نے کبھی کسی کے سامنے آنکھ نیچی نہیں کی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ (159)