خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 276

خطبات مسرور جلد 19 276 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور ان کا ہاتھ زور سے ان کی ناک پر لگا" یعنی بہن کی ناک پر " اور اس سے خون بہنے لگا۔حضرت عمر جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا اور پھر بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے۔حضرت عمر نے بات ٹلانے کیلئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے ؟ بہن نے سمجھ لیا کہ عمر کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔اس نے کہا جاؤ تمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں میں وہ پاک چیز دینے کیلئے تیار نہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا پھر میں کیا کروں؟ بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہا کر آؤ تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔حضرت عمر نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے اوراق جو وہ سن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دیئے چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی ان کے اندر رقت پید اہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بے اختیار انہوں نے کہا کہ : اَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ الرَّسُوْلُ اللَّهِ - یہ الفاظ سن کر وہ صحابی بھی باہر نکل آئے جو حضرت عمرؓ سے ڈر کر چھپ گئے تھے۔پھر حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کہاں مقیم ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ آج کل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں جب کہ ننگی تلوار انہوں نے الٹکائی ہوئی تھی اس گھر کی طرف چل پڑے۔بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بُری نیت سے نہ جارہے ہوں۔انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلا دو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں پکا وعدہ کرتا ہوں کہ میں کوئی فساد نہیں کرونگا۔حضرت عمر وہاں پہنچے۔" یعنی اس جگہ جہاں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تھے " اور دستک دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اندر بیٹھے ہوئے تھے دینی درس ہو رہا تھا۔کسی صحابی نے پوچھا کون ؟ حضرت عمر نے جواب دیا عمر! صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا وہ کیا کرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر ! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کیلئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بنے کیلئے آیا ہوں۔وہ عمر جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کیلئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔حضرت عمرؓ مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمر جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم