خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد 19 275 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 مئی 2021ء بمطابق 107 ہجرت 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یو کے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت عمر کا قبول اسلام: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا تھا اور ان کے اسلام لانے کے بارے میں ذکر ہوا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے متعلق جس طرح بیان فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ "حضرت عمر اسلام کی برابر سختی سے مخالفت کرتے رہے۔یعنی جب تک اسلام نہیں لائے مسلسل مخالفت کر رہے تھے۔" ایک دن ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کر دیا جائے اور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم صلی علیکم کے قتل کیلئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔راستہ میں کسی نے پوچھا کہ عمر کہاں جارہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مارنے کیلئے جارہا ہوں۔اس شخص نے ہنس کر کہا اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ جھوٹ ہے۔اس شخص نے کہا تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمر وہاں گئے۔دروازہ بند تھا اور اندر ایک صحابی قرآن کریم پڑھارہے تھے۔آپ نے دستک دی۔اندر سے آپ کے بہنوئی کی آواز آئی۔کون ہے ؟ عمر نے جواب دیا عمر۔انہوں نے جب دیکھا کہ حضرت عمرؓ آئے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ آپ اسلام کے شدید مخالف ہیں تو انہوں نے صحابی کو جو قرآن کریم پڑھارہے تھے کہیں چھپادیا۔اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کو نہ میں چھپا کر رکھ دیئے اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ چونکہ یہ سن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔" یعنی ان کے بہنوئی اور بہن۔" اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے؟ آپ کے بہنوئی نے جواب دیا آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا: یہ بات نہیں۔کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے۔مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اس صابی کی باتیں سن رہے تھے۔(مشرکین مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صابی کہا کرتے تھے۔انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی " ان کے بہنوئی نے "لیکن حضرت عمرؓ کو غصہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے۔آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔حضرت عمر چونکہ ہاتھ اٹھا چکے تھے اور ان کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں