خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء موت کو قریب کرے گا۔( تفسير القرآن العظيم لابن كثیر۔جلد 3 صفحه 132 مطبوعه دار الكتب العلمية لبنان 1998ء) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری عورت کے گھر میں تھے جس نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہو اتھا، دعوت کی ہوئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے تو ہم نے انہیں مبارک باد دی۔پھر آپ نے دوبارہ فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔اس پر حضرت عمر داخل ہوئے تو ہم نے انہیں مبارکباد دی۔پھر تیسری دفعہ آپ نے فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر کھجور کے ایک چھوٹے سے پودے کے نیچے چھپائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو یہ آنے والا علی ہو۔پھر حضرت علی داخل ہوئے تو ہم نے انہیں مبارکباد دی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 107 مسند جابر بن عبد ا ـد الله حديث: 14604 عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للی یکم نے فرما یا جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے اور وہ ہیں علی، عمار اور سلمان۔(المستدرك على الصحیحین۔جزء 3 صفحه 348 كتاب معرفة الصحابة ذكر اسلام امير المومنين علی حدیث نمبر 4724 مطبوعه دار الفكر 2002ء) ابو عثمان مھدی سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میر ا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور ہم مدینہ کی ایک گلی سے گزر کر ایک باغ کے پاس پہنچے۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! یہ باغ کس قدر خوبصورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے جنت میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت باغ ہے۔(المستدرك على الصحيحين جزء 3 صفحه 349-350 كتاب معرفة الصحابة ذكر اسلام امیر المومنين على حدیث نمبر 4730 مطبوعه دار الفكر 2002ء) حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے علی ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسی خوبی عنایت کی ہے کہ اس سے بہتر خوبی اس نے اپنے بندوں کو عطا نہیں کی اور وہ ہے دنیا سے بے رغبتی۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ نہ تم دنیا میں سے کچھ لیتے ہو نہ دنیا تم میں سے کچھ لیتی ہے یعنی تمہیں دنیا کی ، دنیا کی چیزوں کی کوئی خواہش نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کی خواہش رکھنے والے لوگ تم سے کوئی تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔نیز تجھے اللہ تعالیٰ نے مساکین کی محبت عطا کی ہے وہ تم کو اپنا امام بنا کر خوش ہیں اور تم ان کو اپنا پیروکار بنا کر خوش ہو۔پس خوشخبری ہو اس شخص کو جو تم سے محبت کرے اور تمہارے بارے میں سچ بولے اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو تم سے بغض رکھے اور تمہارے خلاف جھوٹ بولے۔وہ لوگ جو تم سے محبت رکھتے ہیں اور تمہارے بارے میں سچ بولتے ہیں وہ جنت