خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء امیر المومنین ! پھر تو میں آپ کی طرف ایسے ہی لوٹوں گا جیسے میں آپ کے پاس سے جارہا ہوں۔کچھ نہیں ملے گا۔حضرت علی نے فرمایا تمہارا بھلا ہو۔ہاں خواہ تم خالی ہاتھ ہی لوٹو ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کے اس مال میں سے لیں جو اُن کی ضرورت سے زائد ہو۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه لابن اثير جلد 04 صفحه 98 ذكر على بن ابى طالب، دار الفكر للطباعة والنشر التوزيع بيروت 2003ء) (معجم البلدان جلد 3 صفحه (188) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا تم میرے بھائی اور میرے ساتھی ہو۔(كنز العمال جلد 13 صفحہ 109 حدیث 36356 فضائل على مؤسسة الرسالة 1981ء) علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی کے پاس حاضر تھا جب ان کے لیے ایک جانور لایا گیا تا کہ اس پر سوار ہوں۔جب آپ نے رکاب میں پاؤں رکھا تو تین مرتبہ بسم اللہ کہا۔جب اس کی پشت پر سیدھا بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔پھر کہا: سُبْحَنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف: 14-15) یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔پھر آپ نے تین مرتبہ الحمد للہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا۔پھر آپ نے یہ دعا پڑھی کہ : سُبْحَانَكَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔یعنی تو پاک ہے یقینا میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا۔پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔پھر آپ مسکرائے۔راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین! آپ کس وجہ سے مسکرائے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جس طرح میں نے کیا ہے۔پھر آپ مسکرائے تھے اور حضرت علی کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ کس وجہ سے مسکرائے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: یقیناً تیر ارب اپنے بندے سے بہت خوش ہو تا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے۔یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔اس بات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے تھے۔(جامع الترمذی ابواب الدعوات بَاب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ دَابَّةٌ حديث 3446) يحيى بن يَعْبُر سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت علی بن ابو طالب نے خطاب کیا۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: اے لوگو ! تم سے پہلے لوگ صرف گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ان کے نیک لوگ اور علماء انہیں اس بات سے منع نہ کرتے تھے۔پھر جب وہ گناہوں میں حد سے بڑھ گئے تو انہیں قسم قسم کی سزاؤں نے پکڑ لیا۔پس تم لوگ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو قبل اس کے کہ تم پر بھی ان جیسا عذاب آجائے۔یادرکھو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے رو کنانہ تو تمہاری روزی گھٹائے گا اور نہ تمہاری