خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 10

خطبات مسرور جلد 19 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 364-365) نے علماء میں سے قرار دیا ہے مگر خیبر کی جنگ میں سب سے نازک وقت میں اسلام کا جھنڈار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے ہاتھ میں دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت علماء بزدل نہیں تھے بلکہ سب سے زیادہ بہادر تھے۔یہ ذکر آپ علماء کی بہادری کا فرمارہے ہیں۔اس ضمن میں یہ واقعہ بیان فرمایا۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ میں اپنے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے پتھر باندھتا تھا اور آج میر ا صدقہ یعنی زکوۃ چار ہزار دینار تک پہنچ چکا ہے۔ایک روایت میں چالیس ہزار دینار کا ذکر ہے۔ابو بحر اپنے ایک استاد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی کو موٹی تہ بند پہنے دیکھا۔آپ نے فرمایا: میں نے یہ پانچ درہم میں خریدی ہے جو مجھے اس پر ایک درہم کا نفع دے گا میں اسے یہ فروخت کر دوں گا۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کے پاس چند درہم کی تھیلی دیکھی تو آپ نے کہا یہ ینبغ کی جائیداد میں سے ہمارا بچنے والا نفقہ ہے۔ینبع ایک بستی ہے جو مدینہ سے سات منزل دور تھی، ساحل سمندر کی طرف واقع ہے۔آپ کی انگوٹھی پر ، حضرت علی کی انگوٹھی پر اللهُ الْمَلِكُ کندہ تھا کہ اللہ ہی بادشاہ ہے۔(2005 (اسد الغابه في معرفة الصحابه لابن اثیر جلد 04 صفحه 7 9 ذکر علی بن ابی طالب، دار الكتب العلمية لبنان 2003ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 03 صفحه 22 ذكر على بن ابی طالب، دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) (لغات الحديث جلد4 صفحه 613 نعمانی کتب خانه لام هور جميع بن عُمیر بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس اپنی پھوپھی کے ساتھ آیا تو انہوں نے سوال کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون عزیز تھا؟ حضرت عائشہ نے فرمایا فاطمہ۔پھر سوال کیا گیا کہ مردوں میں سے ؟ تو آپ نے فرمایا ان کے خاوند حضرت علی۔(سنن الترمذى كتاب المناقب باب مَا جَاءَ فِى فَضْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حديث 3874) حضرت ثعلبہ بن ابو مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ہر میدان جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے علمبر دار ہوتے تھے مگر جب لڑائی کا وقت آتا تھا تو حضرت علی بن ابوطالب جھنڈا تھام لیتے تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد 04 صفحه 93 ذکر علی بن ابی طالب، دارالفكر للطباعة والنشر التوزيع بيروت 2003ء) قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت علی نے مجھے سابور علاقے کا عامل مقر ر کیا۔سابور فارس میں ایک علاقہ ہے جو شیر از سے کوئی تقریباً75 میل کے فاصلہ پر ہے اور فرمایا کسی شخص کو بھی ایک درہم ٹیکس کی وجہ سے کوڑا نہ مارنا اور لوگوں کے رزق کے پیچھے نہ پڑنا اور نہ سر دیوں یا گرمیوں میں ان کے کپڑوں کے پیچھے پڑنا۔اس طرح ٹیکس نہیں لینا کہ کپڑے اتر جائیں اور نہ ان سے کسی ایسے جانور کا مطالبہ کرنا جسے وہ کام میں استعمال کرتے ہوں۔کسی کو ایک درہم کی طلب میں کھڑے نہ رکھنا۔یعنی جو بھی ٹیکس وصول کرنا ہے جزیہ وصول کرنا ہے اس کے لیے کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دینی، بوجھ نہیں ڈالنا۔میں نے کہا یا