خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 9
خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون سا قول زیادہ درست اور صحیح ہے۔(المنتظم جلد 5 صفحه 178، سنة 40 فصل، دار الكتب العلمية بيروت 2012ء) حضرت علی کی شادیاں اور اولاد: حضرت علی کی جو شادیاں اور اولاد ہیں ان کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ حضرت علی نے مختلف وقتوں میں آٹھ شادیاں کیں جن کے نام یہ ہیں۔فاطمہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خولہ بنت جعفر بن قیس، لیلیٰ بنت مسعود بن خالد ، أم البنين بنت حزام بن خالد اسماء بنت نمیس ، صَهْبَاء ام حبیب بنت ربيعه ، أمامه بنت ابو العاص بن ربیع۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کی بیٹی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نواسی تھیں۔اُتم سعید بنت عُروة بن مسعود ثقفی۔ان سے اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد عطا کی جن کی تعداد تیس سے زائد بنتی ہے۔چودہ لڑکے اور انہیں لڑکیاں۔آپ کی نسل حضرت حسن، حضرت حسین، محمد بن حَنَفِيَّه، عباس بن کلابیہ اور عمرو بن تَغْلَبِیہ سے چلی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 14 دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) (سید نا علی بن ابی طالب از ڈاکٹر علی محمد صلابی مترجم صفحہ 82-83 الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان) مناقب حضرت علی : حضرت علی کے فضائل و خصائل اور مناقب کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ، فَلْيَأْتِ الْبَابَ کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے جو اس شہر کا قصد کرے اس کو چاہیے کہ وہ اس کے دروازے پر آئے۔(المستدرك على الصحيحين جزء 3 صفحه 339 کتاب معارفة الصحابة ذكر اسلام امير المومنين على حدیث 4695، دار الفكر 2002ء) حضرت مصلح موعودؓ اس بات کو بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ صحابہ میں سے زیادہ بہادر اور دلیر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور پھر انہوں نے کہا کہ جنگ بدر میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک علیحدہ چبوترہ بنایا گیا تو اس وقت سوال پید ا ہوا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کیا جائے ؟ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراننگی تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس انتہائی خطرے کے موقع پر نہایت دلیری سے آپ کی حفاظت کا فرض سر انجام دیا۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا: أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا۔یعنی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔پس حضرت علیؓ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم