خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء دور خلافت چار سال ساڑھے آٹھ ماہ رہا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 28 ذكر على بن ابى طالب، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) (الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 4 0 صفحه 468 ذكر على بن ابی طالب ، دار الكتب العلمية بيروت 2005 ء) حضرت مصلح موعود اس واقعہ کو بیان فرماتے ہیں۔طبقات ابن سعد کی جلد ثالث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وفات کے حالات میں حضرت امام حسنؓ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! آج وہ شخص فوت ہوا ہے کہ اس کی بعض باتوں کو نہ پہلے پہنچے اور نہ بعد کو آنے والے پہنچیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنگ کے لیے بھیجتے تھے تو جبرئیل اس کے دائیں طرف ہوتے تھے اور میکائیل بائیں طرف۔پس وہ بلا فتح حاصل کیے واپس نہیں ہو تا تھا۔بغیر فتح حاصل کیے واپس نہیں ہو تا تھا اور اس نے صرف سات سو درہم اپنا ترکہ چھوڑا ہے جس سے اس کا ارادہ تھا کہ ایک غلام خریدے اور وہ اس رات کو فوت ہوا ہے جس رات عیسی بن مریم کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی تھی یعنی رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو۔(ماخوذ از دعوة الامير ، انوار العلوم جلد 7 صفحہ 348) حضرت علی کی تجہیز و تکفین اور عمر: حضرت علی کو ان کے دونوں بیٹوں اور حضرت عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا اور آپ کے بیٹے حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی اور نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں۔آپ کو تین کپڑوں کا کفن دیا گیا جس میں قمیص نہیں تھی۔آپ کی تدفین سحری کے وقت ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کے پاس کچھ متبرک مشک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک کو لگائے گئے مشک سے بچا تھا اور حضرت علیؓ کی وصیت تھی کہ وہ مشک آپ کی میت کو لگایا جائے۔آپ کی عمر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض نے کہا آپ کی عمر ستاون سال تھی، بعض کے نزدیک اٹھاون سال تھی، بعض کے نزدیک پینسٹھ سال تھی، بعض کے نزدیک تریسٹھ سال تھی۔تاہم اکثریت کے نزدیک تریسٹھ سال والی روایت زیادہ درست تھی۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه لا بن اثير جلد 04 صفحه 115 ذكر على بن ابی طالب، دارالکتب العلمية بيروت 2003ء) حضرت علی کا مزار : حضرت علی کا مزار کہاں واقع ہے ؟ اس بارے میں بھی سوال اٹھتا ہے۔اس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں متفرق روایات ملتی ہیں جو یوں ہیں۔حضرت علی کو رات کے وقت کوفہ میں دفن کیا گیا اور ان کی تدفین کو مخفی رکھا گیا۔حضرت علی کو کوفہ کی جامع مسجد میں دفن کیا گیا۔حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما نے حضرت علیؓ کی لاش کو مدینہ منتقل کیا اور حضرت فاطمہ کی قبر کے پاس بقیع میں دفن کیا۔ایک روایت یہ ہے کہ جب ان دونوں نے حضرت علی کی لاش کو ایک صندوق میں ڈال کر اونٹ پر رکھا تو اونٹ گے