خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 8
خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء خطبات مسرور جلد 19 ہو گیا۔اس اونٹ کو کے قبیلہ نے پکڑا۔وہ اس صندوق کو مال سمجھ رہے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ صندوق میں لاش ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں سکے اور انہوں نے اس لاش کو صندوق سمیت دفن کر دیا اور کوئی نہیں جانتا کہ حضرت علی کی قبر کہاں ہے۔پھر ایک روایت ہے کہ حضرت حسن نے حضرت علی کو کوفہ میں جَعْدَه بن هبيرہ کی آل کے کسی حجرے میں دفن کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جعدہ حضرت علی کا بھانجا تھا۔امام جعفر صادق کہتے ہیں کہ حضرت علی کا رات کے وقت جنازہ پڑھا گیا اور کوفہ میں ان کی تدفین ہوئی اور ان کی قبر کے مقام کو مخفی رکھا گیا تاہم وہ قصر امارت کے پاس تھا۔ایک دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت علی کی وفات کے بعد حضرت امام حسن نے حضرت علیؓ کا جنازہ پڑھایا اور کوفہ کے باہر حضرت علیؓ کی تدفین کی گئی اور ان کی قبر کو اس خوف سے مخفی رکھا گیا کہ خوارج وغیرہ ان کی اور قبر کی بے حرمتی نہ کریں۔بعض شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کا مزار نجف میں ہے ، اس مقام پر جس کو آج کل مَشْهَدُ النَّجَفْ کہتے ہیں۔ایک روایت کے مطابق کوفہ میں حضرت علیؓ کو شہید کیا گیا تاہم آپ کی قبر کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔حضرت علی کی وفات کے بعد حضرت امام حسنؓ نے حضرت علی کا جنازہ پڑھایا اور کوفہ کے دارالامارہ میں حضرت علی کی تدفین کی گئی اس خوف سے کہ خوارج ان کی لاش کی بے حرمتی نہ کریں۔علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ یہ روایت مشہور ہے اور جس نے یہ کہا کہ انہیں جانور پر رکھا گیا اور وہ اسے لے گیا اور کوئی نہ جان سکا کہ وہ جانور کہاں چلا گیا تو یہ درست نہیں ہے اور اس نے اس بارے میں تکلف سے کام لیا ہے جس کا اس کو کوئی علم نہیں اور نہ ہی عقل اور نہ ہی شریعت اس کا جواز پیش کرتی ہے اور جو اکثر جاہل روافض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کا مزار مَشْهَدُ النَّجف میں ہے تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی حقیقت ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ وہاں تو حضرت مُخِیر کا بن شُعبہ کی قبر ہے۔(البداية والنهاية جلد 4، جزء 7 صفحه 316-317، صفة مقتله رضي الله عنه، دارالكتب العلمية بيروت 2001ء ) ( تاریخ طبری جلد 3 صفحه 477 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ نجف میں مشہد کے نام سے جو مقام ہے اہل علم اس پر متفق ہیں کہ وہ حضرت علی کی قبر کا مقام نہیں بلکہ وہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہے۔اہل بیت، شیعہ اور دیگر مسلمانوں نے کوفہ میں ان کی حکومت اور تین سو سال سے زیادہ بیت جانے کے باوجود کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حضرت علی کی قبر ہے۔حضرت علیؓ کی شہادت کے تین سو سال بعد اس جگہ کو مشہد علی کا نام دیا گیا ہے اس لیے یہ روایت بالکل غلط ہے کہ یہ حضرت علی کی قبر ہے۔(ماخوذ از انسائیکلو پیڈیا سیرت صحابہ کرام جلد 1 صفحہ 436 سید نا علی بن ابی طالب۔دار السلام ریاض 1438ھ) نیز علامہ ابن جوزی نے اپنی تاریخ کی کتاب میں حضرت علی کے مزار کے متعلق متفرق روایات جنہیں اوپر بیان کر دیا گیا ہے کو درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ وَاللهُ أَعْلَمُ أَيُّ الْأَقْوَالِ أَصَحُ -