خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء حضرت مصلح موعود اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں کہ " تاریخوں میں لکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک شخص نے خنجر کے ساتھ حملہ کیا اور آپ کا پیٹ چاک کر دیا وہ پکڑا گیا۔" بہر حال آپ نے یہ لکھا ہے کہ پیٹ چاک کیا۔سر کاز خم بھی تھا۔شاید پیٹ پر بھی زخم ہوا ہو یا ویسے ہی آپ کا خیال تھا یا محاورة بولا۔کیونکہ اکثر روایتیں بہر حال سر کے زخم کی آتی ہیں۔وہ پکڑا گیا تو صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔آپ نے حضرت امام حسن کو بلوایا اور وصیت کی کہ اگر میں مر جاؤں تو میری جان کے بدلے اس کی جان لے لی جائے لیکن اگر میں بچ جاؤں تو پھر اسے قتل نہ کیا جائے۔" (خطبات محمود جلد 16 صفحہ 428) عمر ذی مربیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی کو تلوار کے زخم آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے اپنا سر پیٹا ہوا تھا۔میں نے عرض کیا اے امیر المومنین! مجھے اپناز خم دکھائیں۔آپ نے زخم سے کپڑا کھولا تو میں نے عرض کیا ہلکا ساز خم ہے اور کچھ نہیں ہے۔آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں سے جدا ہونے والا ہوں۔اس پر آپ کی صاحبزادی اتم کلثوم پر دے کے پیچھے سے رو پڑیں۔آپ نے اسے فرمایا چپ ہو جاؤ۔اگر تم وہ دیکھ لو جو میں دیکھ رہا ہوں تو نہ روؤ۔میں نے عرض کی کہ اے امیر المومنین ! آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ فرمایا یہ فرشتوں اور نبیوں کے وفد ہیں اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرما رہے ہیں (یعنی ایک نظارہ میں دیکھ رہا ہوں کہ فرشتوں اور نبیوں کے وفد ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں ہیں۔آپ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں) کہ اے علی !خوش ہو جاؤ کیونکہ جس طرف تم جارہے ہو وہ اس سے بہتر ہے جس میں تم موجود ہو۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت علی اپنی وصیت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں آپ سب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتا ہوں۔اس کے بعد کوئی بات نہیں کی سوائے لا اله الا اللہ کے کلمہ کے ، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض ہو گئی۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد 04 صفحه 114-115 ذكر على بن ابی طالب، دارالکتب العلمية بيروت 2003ء) جب حضرت علی بن ابو طالب کی وفات ہوئی تو حضرت حسن بن علی منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! آج کی رات ایک ایسے شخص کی وفات ہوئی ہے کہ نہ اس سے پہلے لوگ اس سے سبقت لے جا سکے اور نہ بعد میں آنے والے اس کا مقام پاسکیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے کسی مہم پر بھیجتے تو جبرئیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف ہوتے تھے اور وہ واپس نہ کو ٹتا تھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نہ عطا کر دیتا تھا۔اس نے صرف سات سو در ہم ترکہ چھوڑا ہے۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ اس رقم سے غلام خریدے اور اس کی روح اسی رات کو قبض کی گئی جس رات کو حضرت عیسیٰ کی روح کا رفع ہو ا تھا یعنی ستائیس رمضان المبارک کی رات۔ایک اور روایت میں ہے حضرت علی کی شہادت کی تاریخ سترھویں رمضان کی رات سن چالیس ہجری بیان ہوئی ہے۔یہ چالیس ہجری کا سال تھا اور آپ کا