خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء ن کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارہ میں اللہ سے ڈرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں وصیت فرمائی ہے۔اور فقراء اور مساکین کے بارہ میں بھی اللہ سے ڈرو اور انہیں اپنے سامان معیشت میں شریک کرو۔اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو جن کے مالک تمہارے داہنے ہاتھ ہوئے ہیں یعنی جن کی ذمہ واری تمہارے سپرد کی گئی ہے ان کے معاملات کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو۔نماز کی حفاظت کرو۔نماز کی حفاظت کرو۔فرمایا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی ملامت کرنے والے کا خوف مت کرو۔اللہ تعالیٰ کی رضا سامنے ہونی چاہیے۔( بہت اہم چیز ہے۔) وہ خدا تمہارے لیے کافی ہو گا اس شخص کے خلاف جو تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمہارے خلاف بغاوت کرے۔اور لوگوں سے نیک بات کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ چھوڑو ورنہ تم میں سے بڑے تمہارے حاکم بن جائیں گے۔( بڑی اہم بات ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نیک کاموں کا کہنا اور برے کاموں سے روکنا اس پر ہمیشہ کار بند رہو۔اس کو کبھی نہ چھوڑ ناور نہ تم میں سے بڑے تمہارے حاکم بن جائیں گے۔) پھر تم دعا کرو گے مگر تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔(جو آج کل مسلمان ملکوں کا حال ہے۔) ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق رکھو اور تکلفات کے بغیر ایک دوسرے کے کام آؤ۔خبر دار ! ایک دوسرے سے دشمنیاں نہ بڑھاؤ، نہ قطع تعلق کرو اور نہ تفرقہ کرو اور نیکی اور تقوی میں باہم تعاون کرو اور گناہ اور سرکشی میں تعاون نہ کرو۔اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو۔یقینا اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔اے اہل بیت کے معزز افراد ! اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمہارے ذریعہ حفاظت کرے یعنی تمہارے نیک نمونے کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا ہمیشہ زندہ رہیں۔میں تمہیں اللہ کے سپر د کر تا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔(تاريخ الطبری جلد3 صفحه 158 سنة 40- دار الكتب العلمية بيروت 1987ء) ابوسان کا بیان ہے کہ جب حضرت علی زخمی تھے تو وہ ان کی عیادت کے لیے گئے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے امیر المومنین! آپ کی اس زخمی حالت پر ہمیں بہت تشویش ہو رہی ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا لیکن خدا کی قسم مجھے اپنے اوپر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتا دیا تھا کہ تمہیں اس اس جگہ پر زخم آئیں گے اور آپ نے اپنی کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا پھر وہاں سے خون بہے گا حتی کہ تیری داڑھی رنگین ہو جائے گی اور ایسا کرنے والا اس امت کا سب سے بڑا بد بخت ہو گا جیسا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا قوم ثمود کا سب سے بڑا بد بخت تھا۔شخص (المستدرك على الصحيحين جزء 3 صفحه 327 كتاب معرفة الصحابة ذكر اسلام امیر المومنين على حديث نمبر 4648 مطبوعه دار الفكر 2002ء) ایک روایت ہے کہ حضرت علی نے اپنے قاتل ابن ملجم کے بارے میں فرمایا اس کو بٹھاؤ۔اگر میں مر گیا تو اسے قتل کر دینا مگر اس کا مثلہ نہ کرنا اور اگر میں زندہ رہا تو میں خود اس کی معافی یا قصاص کا فیصلہ کروں گا۔(الاستيعاب جلد 3 صفحه 219 ، دار الكتب العلمية بيروت (2002)