خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 4

خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء سے ان پر ٹوٹ پڑے مگر شبیب بیچ کر نکل گیا جبکہ عبد الرحمن بن ملجم گرفتار کر لیا گیا اور اسے حضرت علی کے پاس پہنچا دیا گیا۔حضرت علی نے فرمایا کہ اسے اچھا کھانا کھلاؤ اور نرم بستر دو۔اگر میں زندہ رہا تو میں اس کا خون معاف کرنے یا قصاص لینے کا زیادہ حق دار ہوں گا اور اگر میں فوت ہو گیا تو اسے بھی قتل کر کے میرے ساتھ ملا دینا۔میں رب العالمین کے پاس اس سے جھگڑوں گا۔الطبقات الكبرى لا بن سعد - جلد 3 صفحه 25 تا 27 دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) یعنی پھر آپ یہ معاملہ اللہ کے حضور میں پیش کریں گے۔جب حضرت علی کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی۔آپ کی وصیت یہ تھی: بسم الله الرحمن الرحیم۔یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب نے کی ہے۔علی نے یہ وصیت کی ہے کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ یکتا ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تھا تا کہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیں خواہ یہ بات مشرکین کو بُری ہی لگے۔یقیناً میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبر داروں میں سے ہوں۔اس کے بعد اے حسن، اپنے بیٹے کو مخاطب فرمایا کہ میں تجھے اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے اور یہ کہ تم حالتِ اسلام میں ہی دنیا سے رخصت ہونا۔تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور آپس میں تفرقہ نہ کرنا کیونکہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ باہمی تعلقات کی اصلاح کرنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔( یہ بڑی اہم بات ہے۔اسے یاد رکھنا چاہیے کہ باہمی تعلقات کی اصلاح کرنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔آپس میں صلح صفائی سے رہنا اصلاح کرنا اور کروانا یہ بہت بڑی نیکی ہے۔) تم اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس سے اللہ تعالیٰ تم پر حساب آسان فرما دے گا۔یتیموں کے معاملات میں اللہ سے ڈرنا۔نہ تو انہیں اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مدد طلب کریں اور نہ اس بات پر کہ وہ تمہارے سامنے ضائع ہو جائیں۔پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے۔آپ ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کی وصیت کرتے رہے حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑوسیوں کو وارث ہی نہ بنادیں۔قرآن کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔قرآن پر عمل کرنے میں کہیں دوسرے تم پر سبقت نہ لے جائیں۔نماز کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے۔اپنے رب کے گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور زندگی بھر اسے خالی نہ ہونے دو کیونکہ اگر وہ خالی چھوڑ دیا گیا تو اس جیسا کوئی گھر تمہیں نہ ملے گا۔اور جہاد فی سبیل اللہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو۔اور زکوۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ یہ رب کے غصہ کو بجھاتی ہے۔اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔تمہارے