خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 3

خطبات مسرور جلد 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء طرف روانہ ہو گیا جس میں اس کا مطلوبہ شخص رہتا تھا یعنی جسے اس نے قتل کرنا تھا۔عبدالرحمن بن ملجم کوفہ آیا اور اپنے خارجی دوستوں سے ملا مگر ان سے اپنے قصد کو پوشیدہ رکھا۔وہ انہیں ملنے جاتا اور وہ اسے ملنے آتے رہے۔اس نے ایک روز تیم الرباب قبیلہ کی ایک جماعت دیکھی جس میں ایک عورت قطام بنتِ شِجُنَه بن عدی تھی۔حضرت علی نے جنگ نہروان میں اس کے باپ اور بھائی کو قتل کیا تھا۔وہ عورت ابن ملجم کو پسند آئی تو اس نے اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔اس نے کہا میں اس وقت تک تجھ سے نکاح نہ کروں گی جب تک تو مجھ سے ایک وعدہ نہ کرے۔ابن ملجم نے کہا کہ تو جو مانگے گی میں وہ تجھے دوں گا۔اس نے کہا کہ تین ہزار اور علی بن ابی طالب کا قتل۔درہم تین ہزار ہوں گے اور علی بن ابو طالب کا قتل۔اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تو اس شہر میں علی بن ابو طالب کو قتل کرنے کے واسطے ہی آیا ہوں اور میں تجھے وہ ضرور دوں گا جو تو نے مانگا۔پھر ابنِ مُنْجَم شَبِیب بن بَجَرَة أَشْجَعِی سے ملا اور اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا اور اپنے ساتھ رہنے کا کہا۔شبیب نے اس کی یہ بات مان لی۔عبد الرحمن بن ملجم نے وہ رات جس کی صبح کو اس نے حضرت علی کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اشعث بن قیس کندی کی مسجد میں اس سے سرگوشی کرتے ہوئے گزاری۔طلوع فجر کے قریب اشعث نے اسے کہا، اٹھو صبح ہو گئی ہے۔عبد الرحمن بن ملجہ اور شبیب بن بجرة کھڑے ہو گئے اور اپنی تلواریں لے کر اس تھڑے کے بالمقابل آکر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی نکلتے تھے۔حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں صبح سویرے حضرت علی کے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس وقت حضرت علیؓ نے فرمایا: میں رات بھر اپنے گھر والوں کو جگا تا رہا پھر بیٹھے بیٹھے میری آنکھوں پر نیند غالب آگئی تو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یعنی حضرت علی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کی اُمت کی طرف سے ٹیڑھے پن اور شدید جھگڑے کا سامنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔میں نے کہا: اے اللہ !مجھے ان کے بدلے میں وہ دے جو ان سے بہتر ہو اور ان کو میرے بدلے وہ دے جو مجھ سے بد تر ہو۔اتنے میں ابن نَبَّاخ موزن آئے اور کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔حضرت حسن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا تو وہ کھڑے ہو کر چلنے لگے۔ابن نباخ آپ کے آگے تھے اور میں پیچھے۔جب آپ دروازے سے باہر نکلے تو آپ نے آواز دی کہ اے لوگو! نماز ، نماز۔صلوۃ، صلوۃ کی آواز دیتے تھے۔آپ ہر روز اسی طرح کیا کرتے تھے۔جب آپ نکلتے تو آپ کے ہاتھ میں کوڑا ہو تا تھا اور آپ اُسے دروازوں پہ مار کے لوگوں کو جگایا کرتے تھے۔عین اس وقت وہ دونوں حملہ آور آپ کے سامنے نکل آئے۔عینی شاہدوں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ میں نے تلوار کی چمک دیکھی اور ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے علی احکم اللہ کے لیے ہے نہ کہ تمہارے لیے۔پھر میں نے دوسری تلوار دیکھی۔پھر دونوں نے مل کر وار کیا۔عبدالرحمن بن ملجم کی تلوار حضرت علیؓ کی پیشانی سے سر کی چوٹی تک پڑی اور دماغ تک پہنچ گئی جبکہ شعیب کی تلوار دروازے کی لکڑی پر جالگی۔میں نے حضرت علی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ آدمی تم سے بھاگنے نہ پائے۔لوگ ہر طرف