خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء آخرین میں سب سے بد بخت وہ شخص ہو گا جو تمہیں نیزہ مارے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کی طرف اشارہ فرمایا جہاں آپ کو نیزہ مارا جائے گا۔حضرت علی کی لونڈی اتم جعفر کی روایت ہے کہ میں حضرت علی کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی کہ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اپنی داڑھی کو پکڑ کر اسے ناک تک بلند کیا اور داڑھی کو مخاطب کر کے فرما یا واہ واہ ! تیرے کیا کہنے۔تم ضرور خون میں رنگی جاؤ گی۔پھر جمعہ کے دن آپ شہید کر دیے گئے۔حضرت علی کا واقعہ شہادت ایک جگہ اس طرح بیان ہوا ہے۔ابن حنفیہ روایت کرتے ہیں کہ میں اور حضرت حسن اور حضرت حسین حمام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ابن ملحم آیا۔جب وہ داخل ہو اتو گویا حسنین نے اس سے نفرت کا اظہار کیا اور کہا کہ تیری یہ جرات کہ اس طرح یہاں ہمارے پاس آئے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اسے منہ نہ لگاؤ۔قسم سے کہ یہ تمہارے خلاف جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔حضرت علی پر حملہ کے وقت ابنِ مُنجم کو قیدی بنا کر لایا گیا تو ابنِ حَنَفِيَّہ نے کہا میں تو اسے اس دن ہی اچھی طرح جان گیا تھا جس دن یہ حمام میں ہمارے پاس آیا تھا۔اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ یہ قیدی ہے۔لہذا اس کی اچھی طرح مہمان نوازی کرو اور اسے عزت کے ساتھ ٹھہراؤ۔اگر میں زندہ رہا تو یا تو اسے قتل کروں گا یا اسے معاف کروں گا اور اگر میں مر گیا تو اسے میرے قصاص میں قتل کر دینا اور حد سے نہ بڑھنا۔یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام قسم سے روایت ہے کہ حضرت علی نے میرے بڑے بیٹے کو اپنی وصیت میں لکھا کہ اس یعنی ابنِ مُلْجم کے پیٹ اور شرم گاہ میں نیزہ نہ مارا جائے۔لوگوں نے بیان کیا کہ خوارج میں سے تین آدمیوں کو نامزد کیا گیا تھا عبد الرحمن بن ملجم مرادی جو قبیلہ حمید سے تھا اور اس کا شمار قبیلہ مُراد میں ہوتا تھا جور کندہ کے خاندان بَنُو جَبَلَہ کا حلیف تھا اور برگ بن عبد اللہ شیعی اور عمر و بن بگیر تیٹی۔یہ تینوں مکہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے پختہ عہد و پیمان کیے کہ وہ تین آدمیوں یعنی حضرت علی بن ابو طالب، حضرت معاویہ بن ابوسفیان اور حضرت عمرو بن عاص کو ضرور قتل کریں گے ، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔یہ نام ان تین قتل کرنے والوں کے تھے جس کا واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے شروع میں بیان کیا تھا، اور لوگوں کو ان سے نجات دلائیں گے۔عبدالرحمٰن بن منجم نے کہا میں علی بن ابو طالب کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں۔بُرگ نے کہا میں معاویہ کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں اور عمر و بن بگیر نے کہا میں تمہیں عمرو بن عاص سے نجات دلاؤں گا۔اس کے بعد انہوں نے اس بات پر باہم پختہ عہد و پیمان کیا اور ایک دوسرے کو یقین دلایا کہ وہ اپنے نامزد کردہ شخص کو قتل کرنے کے عہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور وہ اس تک پہنچے گا یہاں تک کہ اسے قتل کر دے یا اس راہ میں اپنی جان دے دے یعنی اس حد تک وہ جائیں گے یا تو ان تینوں کو قتل کر دیں گے یا اپنی جان دے دیں گے، واپس نہیں آئیں گے۔انہوں نے آپس میں رمضان کی سترھویں رات اس غرض کے لیے مقرر کی۔پھر ان میں سے ہر شخص اس شہر کی